فوجی عدالتوں کو سویلین پر مقدمہ چلانے کا کوئی اختیار نہیں،اعتزاز احسن

اسلام آباد(ان لائن)سینئر قانون دان اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں کو سویلین پر مقدمہ چلانے کا کوئی اختیار نہیں، انصاف نہ ہوناآئین کی خلافورزی ہے، فوجی عدالتوں میں جب کوئی وکیل دلائل نہیں دیگا تو انصاف کیسے ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اعتزاز احسن نے کہا کہ آج میں نے اپنی طرف سے اپنی مدعیت میں فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دی ہے،میرا موقف ہے کہ فوجی عدالتوں کا قیام خلاف آئین ہے،ہم مانتے ہیں کہ فوجی عدالتیں پاکستان کے آئین کے تحت نہیں لگ سکتی،اس بارے میں حتمی فیصلہ 1999 میں ہو گیا تھا،عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ فوجی عدالتوں کا سولین پر مقدمہ چلانے کا کوئی اختیار نہیں، عام عدالتیں جب سزا سناتی ہیں تو انہیں پوری وضاحت لکھنی پڑتی ہیں مگر فوجی عدالتوں کو کوئی دلائل نہیں دینے پڑتے،فوجی عدالتوں میں کوئی اپیل بھی نہیں، انصاف کا نہ ہونا آئین کے خلاف ہے، فوجی عدالتوں میں وکیل کوئی دلائل نہیں دیتا،جب دلائل ہی نہیں دینے تو کوئی انصاف نہیں ہوگا،فوجی عدالتوں میں سول عدالتوں کی طرح اپیل بھی نہیں ہے،فوجی عدالتوں میں معلوم نہیں ہوتا کہ جج نے نتیجے تک پہنچنے کے لیے کیا استدلال استعمال کی،پھر نو مئی کا واقعہ ہوا، جو کہ نہایت افسوس ناک تھا، فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا گیا،فوجی عدالتیں نو مئی کے واقعات کا بھی ٹرائل نہیں کر سکتی،کسی ایف آئی آر میں 45 لوگوں کے پاس آتشیں اسلحہ نہیں تھا،چاروں آئی جیز کو شاملِ تفتیش ہونا چاہیے، انھوں نے لوگوں کو نہیں روکا،جب تک آئی جی کو شامل تفتیش نہیں کیا جاتا تب تک اصل حقائق تک نہیں پہنچا جا سکتا، 7 جون 2023 کو فارمیشن کمانڈرز کی میٹنگ ہوئی اور آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں، کور کمانڈر ہاؤس میں قیمتی سامان کا نقصان ہوا سکیورٹی کہاں تھی؟آرمی چیف کو شاید درست مشورہ نہیں مل رہا،کور کمانڈر کے گھر کو آگ لگی اور کوئی وہاں نہیں پہنچا،ہم نے اپنی درخواست میں اس سوال کا جواب مانگا ہے،آئی جی پنجاب بتائیں کہ انہیں کس نے آنے سے روکا،آپ نے ایک جال بچھایا کہ اس میں پھنس جائیں،کور کمانڈر لاہور کے گھر پر حملہ بہیمانہ اور بزدلانہ ہے،کوئی پاکستانی ان حملوں کی حمایت نہیں کرتا،جو لوگ اس واقعہ میں ملوث ہیں ان کو گرفتار ہونا چاہیے،نو مئی کے واقعہ میں ملوث ملزمان کو فوجی عدالتیں سزا نہیں دے سکتی، جنہوں نے پی ٹی آئی چھوڑی ان کو نا صرف معافی مل گئی بلکہ اگلے دن انہوں نے نئی پارٹی بھی بنا لی،عام سیاسی ورکرز کو اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے، پاکستان 1971 کو پاکستان دو لخت ہوا، ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی شہادت ہوئی،ملک میں چار بار آئین معطل ہوا وہ بھی سیاہ دن تھے،لیاقت حسین کے فیصلے کے بعد کوئی فوجی عدالت نہیں لگی،اس کے بعد آرمی پبلک کا افسوس ناک واقعہ ہوا،اس سانحہ کے پیش نظر آئین میں 21ویں ترمیم کی،اس طرح فوجی عدالتیں بحال کی گئی وہ بھی صرف دو سال کے لیے،دو سال کے بعد یہ محسوس گیا گیا کہ ابھی بہت سے مقدمات کا ٹرائل رہتا ہے اس لیے دو سال کی توسیع کی گئی۔اعتزاز احسن نے اپنی گفتگو میں کہا کہ لطیف کھوسہ کے گھر پر حملے کی میں مذمت کرتا ہوں،لطیف کھوسہ اپنے مقام پہ کھڑا ہے۔