ایران کے پاس 3 دن ہیں، پھر تیل کے انفراسٹرکچرکو تباہ کردیں گے، ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس صرف تین دن ہیں، اس کے بعد اس کے تیل کے ڈھانچے کو تباہ کر دیا جائے گا۔

اتوار کے روز امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے وفد اس لیے نہیں بھیجا گیا کیونکہ سفر بہت طویل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد اپنے انجام کو پہنچے گی اور اس میں امریکا کو کامیابی حاصل ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو وہ براہِ راست ٹیلی فون کے ذریعے رابطہ کر سکتا ہے، کیونکہ یہ معاملہ اسی طرح بھی طے ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں مختلف فریق موجود ہیں، جن میں سے کچھ قابلِ قبول ہیں جبکہ کچھ نہیں، تاہم انہیں امید ہے کہ ایران اس معاملے میں دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے افزودہ یورینیم سے متعلق معاملہ بھی جاری مذاکرات کا حصہ ہے اور امریکا اس تک رسائی حاصل کرے گا۔ چین کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ زیادہ مایوس نہیں، تاہم بیجنگ اس معاملے میں مزید تعاون کر سکتا ہے۔

شمالی اوقیانوسی اتحاد کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے متعلق صورتحال میں یہ اتحاد امریکا کے ساتھ نہیں تھا، اور جنگ کے خاتمے کے بعد برطانیہ کی جانب سے بحری جہاز بھیجنے کی پیشکش کو انہوں نے غیر مناسب قرار دیا۔

صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے دور میں آٹھ مختلف تنازعات کو رکوانے میں کردار ادا کیا، جن میں پاک بھارت کشیدگی بھی شامل ہے۔

ان کے مطابق اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ صورتحال جوہری تصادم تک جا سکتی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس دوران گیارہ طیارے تباہ ہوئے اور وزیراعظم پاکستان نے ان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے لاکھوں جانیں بچائیں۔