کراچی (آن لائن)سمندری طوفان کا کراچی سے فاصلہ مسلسل کم ہو رہا ہے جبکہ ناخوشگوار حالات سے نمٹنے کے لیے پاک فوج کے حفاظتی دستے تیار ہیں،ممکنہ سمندری طوفان بائپرجوائے کے اثرات پہنچنے لگے، کراچی کے ساحلی علاقوں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہونے لگا،سمندری طوفان بپر جوائے نے سندھ کے شہر سجاول میں اثر دکھانا شروع کردیا، ہوا کے جھکڑ چلنے لگے، کشتیوں کے بادبان لپیٹ دیئے گئے۔محکمہ موسمیات نے سمندری طوفان کے حوالے سے 15واں الرٹ جاری کر دیا جس کے مطابق طوفان بدین سے 460 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران سمندری طوفان کا رخ بدستور شمال کی جانب رہا جبکہ 14جون کی صبح تک طوفان کا ٹریک شمال کی جانب رہے گا، 15جون کو رخ تبدیل کرنے کے بعد سہ پہر کے وقت دیہی سندھ کے کیٹی بندر اور بھارتی ریاست گجرات کو کراس کرے گا۔ طوفان کے مرکز اور اطراف میں ہوائیں 160 سے 180اور زیادہ سے زیادہ 200 کلومیٹر فی گھنٹہ ہیں۔ممکنہ سمندری طوفان بائپرجوائے کے اثرات پہنچنے لگے، کراچی کے ساحلی علاقوں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہونے لگا۔کراچی کی ساحلی بستیاں سمندری طوفان کے باعث تیز ہواؤں کے زیرِ اثر آگئیں۔چشمہ گوٹھ اور رہڑی گوٹھ میں سمندر کے پانی میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔پانی چشمہ گوٹھ کی سڑک کنارے تک پہنچ گیا، تاہم یہاں کے رہائشیوں نے اپنے گھروں سے تاحال نقل مکانی نہیں کیہے۔ریڑھی گوٹھ کی جیٹی پانی کی سطح بلند ہونے پر زیرِ آب آ جاتی ہے۔سمندری طوفان بپر جوائے نے سندھ کے شہر سجاول میں اثر دکھانا شروع کردیا، ہوا کے جھکڑ چلنے لگے، کشتیوں کے بادبان لپیٹ دیے گئے۔بدین سے لوگوں نے ٹرکوں اور ٹریکٹروں میں نقل مکانی شروع کردی ہے، آشیانے ویران ہوگئے، دو ہزار سے زیادہ لوگ گھروں کو چھوڑ گئے ہیں۔نقل مکانی کرنے والوں کے لیے گولاڑچی میں امدادی کیمپ بنادیا گیا ہے، کیٹی بندر کو بپھرے سمندر سے محفوظ رکھنے والا بند ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔سمندری طوفان کے باعث دیہی سندھ کے ساحلی علاقوں میں آندھی و گرج چمک کے ساتھ 300 ملی میٹر بارشیں ہوسکتی ہیں سمندری طوفان کے اثرات کے سبب کراچی میں 24 گھنٹوں کے دوران 100 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوسکتی ہے.
Load/Hide Comments



