اسلام آباد(آن لائن)حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان معاملات خوش اسلوبی سے طے پا گئے۔ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ نا موس رسالت ہرمسلمان کے ایمان کا حصہ ہے تحفظ ناموس رسالتﷺ یقینی بنانے کے لیے حکومت نے کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔عافیہ صدیقی معاملہ قومی سطح کا ایشو بنا ہوا ہے، پاکستان کے حالات پر خط لکھنے والے امریکی سینیٹر اور انسانی حقوق کے ادارے عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے بھی امریکہ کو خط لکھیں۔ تحریک لبیک پاکستان کے رہنما کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ تحریک لبیک کے تحفظات ناموس رسالت کے حوالے سے تھے، ناموس رسالت ہرمسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، ٹی ایل پی سے ہماری3روز سے گفتگو جاری تھی،12میں سے 10 مطالبات ناموس رسالت سے متعلق تھے۔ سوشل میڈیا پر بعض لوگ اسیے قبیح فعل میں ملوث ہیں جس سے مسلمانوں کے ناموس رسالتﷺ سے متعلق جذبات مجروح ہوتے ہیں، ہم نے تحفظ ناموس رسالت ﷺ ممکن بنانے کے لیے کچھ طریقہ کار طے کیے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ان اقدامات کے اٹھانے سے گستاخ رسول ﷺ کو روکا جاسکتا ہے، ان کو انصاف کے کٹہرے میں لاکر سزا دی جاسکتی ہے، کافی غور کے بعد اتفاق رائے سے ہم ایک طریقہ کار پر پہنچے ہیں تحفظ ناموس رسالتﷺ یقینی بنانے کے لیے حکومت نے کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں حکومت کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے زعما ہوں گے جو ان چیزوں کا جائزہ لیں گے اور تحفظ ناموس رسالت کو یقینی بنائیں گے، اللہ اس مقدس کام میں ہمیں کامیابی عطا فرمائے۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کی جانب سے معاملے کو بہتر انداز میں ہینڈل نہیں کیا گیا جس سے ملک کا نقصان ہوا۔امریکہ میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عافیہ صدیقی کا معاملہ قومی سطح کا ایشو بنا ہوا ہے ان کی غیر قانونی قید پر ہر پاکستانی غمزدہ ہے، ان کی قید پوری پاکستانی قوم کیلیے ایک جذباتی مسئلہ ہے حکومت ان کی رہائی کیلئے اپنی کوششیں مزیدتیز کرے گی اور ارمریکی حکومت کو خط لکھے گی، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 86سال قید دینا ناانصافی ہے۔ میں چاہتا ہوں کے انسانی حقوق کے ادارے اور پاکستان کے حالات پر نظر رکھنے والے اور خط لکھنے والے امریکی سینیٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے بھی امریکی حکومت کو خط لکھیں،ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ان کی بہن فوزیہ صدیقی نے بھی ملاقات کی جو تفصیلات آئی ہیں ان پر یورپی ممالک اور انسانی حقوق کے بلند و بانگ دعوے کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی اور حکومت کے درمیان معاملات خوش اسلوبی سے طے پا گئے ہیں۔ ٹی ایل پی کا ایک مطالبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، مہنگائی کا خاتمہ بھی تھا جس پر اسحاق ڈار اور ایاز صادق نے سارا معاملہ ان کے سامنے رکھا اور اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح کمی لائیں گے ہرشخص کی یہ خواہش ہے کہ عام آدمی کو ریلیف ملنا چاہئے۔اس موقع پر ٹی ایل پی رہنما شفیق امینی کا کہنا تھا کہ حکومت نے ہمارے مطالبات مان لیے ہیں، ہمارے مطالبات میں تحفظ ناموس رسالت،مہنگائی کا خاتمہ اور ڈاکٹرعافیہ کا معاملہ شامل تھا، ہم نے اپنے مطالبات کے لیے پھر امن مارچ کیا۔شفیق امینی کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ کا شکریہ کہ انہوں نے لاکھوں لوگوں کے جذبات کی قدر کی اور ہامرے مطالبات مانے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ غریبوں کی زندگی آسان کرنا ٹی ایل پی کا منشور ہے، ہمیں امید ہے کہ اس معاملے پر ہم آگے بڑھیں گے۔خیال رہے کہ تحریک لبیک پاکستان کا مطالبات کے حق میں کراچی تا اسلام آباد لانگ مارچ جاری تھا جو کہ حکومت نے جہلم کے قریب روک رکھا تھا ۔
Load/Hide Comments



