صد رمملکت کا 13 جولائی1931 کے22کشمیر ی شہداء کو خراج عقیدت

اسلام آباد (آن لائن) صدر مملکت عارف علوی نے 1931میں ڈوگرہ فورسز کی اندھا دھند فائرنگ کا سامنا کر نے 22کشمیر شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت پر زور دیتے ہیں کہ وہ غیر قانونی طور پر بھارتی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں جاری جبر کو فوری طور پر روکے۔جمعرات کے روز اپنے بیان میں صدر مملکت نے کہاکہ میں 92 ویں یوم شہدائے کشمیر پر ڈوگرہ کے 22 کشمیری شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے 1931 میں ڈوگرہ فورسز کی اندھا دھند فائرنگ کا سامنہ کرتے ہوئے عظیم قربانی دی۔صدر مملکت نے کہاکہ اس افسوسناک دن پر پاکستانی عوام اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ 1931 کے شہداء کی قربانیوں کو یاد کرتی ہے۔ عارف علوی نے کہاکہ یہ امر باعث افسوس ہے کہ کشمیری آج بھی بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ا?ج بھی 9 لاکھ سے زائد قابض بھارتی افواج جموں و کشمیر پر اپنے ناجائز قبضے کو برقرار رکھنے کیلئے کشمیری عوام کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔عارف علوی نے کہاکہ بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کشمیری عوام سے ان کی الگ شناخت چھیننے اور انہیں اپنی ہی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کرنے کی ایک اور کوشش تھے۔صدر مملکت نے کہاکہ کشمیریوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے بھارت نے یوم شہدائے کشمیر پر علاقائی عام تعطیل ختم کر دی جو 1948 سے ہر سال منائی جاتی تھی۔انہوں نے کہاکہ ہم 1931 کے ہیروز کے ساتھ ساتھ تمام بے گناہ کشمیریوں کی انمول قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس منصفانہ جدوجہد میں اپنی جانیں نچھاور کیں۔عارف علوی نے کہاکہ بھارت پر زور دیتے ہیں کہ وہ غیر قانونی طور پر بھارتی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں جاری جبر کو فوری طور پر روکے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت انسانی حقوق کی تمام خلاف ورزیاں بندکرے، تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، فوجی محاصرہ ختم کیا جائے، مقبوضہ علاقے کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوششیں بند کی جائیں۔ عارف علوی نے کہاکہ کشمیری عوام کو اپنے جائز حق خودارادیت کا استعمال کرنے دیا جائے۔صدر مملکت نے کہاکہ عالمی برادری کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق اور سنگین اِنسانی صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کیمتعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کیمطابق جموں و کشمیر کے تنازع کے پرامن حل کو یقینی بنایاجائے۔