پشاور(آن لائن)سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عمران خان کو”را“اور ”موساد“کی سپورٹ حاصل تھی اور آج بھی حاصل ہے اس ساری صورتحال سے ریاست نمٹ رہی ہے تو بین الاقوامی دنیا عمران کو سپورٹ کر رہی ہے۔ ہم نے بین الاقوامی دنیا کو مایوس کرنا ہے،جے یو آئی اپوزیشن کو لے کر چلی ہے ہمیں حلف نہیں اٹھانا چاہیے تھا جب ہم نے کہا کہ اسمبلی جعلی ہے ہمارا موقف تھا کہ پارلیمنٹ میں نا جائیں اور عدم اعتماد پیش نہ کیا جائے ہم چاہتے تھے کہ سڑکوں پر آئیں اور حکومت کو مستعفی ہونے پر مجبور کریں۔عدم اعتماد کے بعد عمران نے مظلومیت کی فضاء بنا دی اس وقت بھی میں نے الیکشن کا کہا تھا، الیکشن وقت پر ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا فضل الرحمان کی سینر صحافیوں سے ملاقات کے موقع پر غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ آل پارٹی کانفرنس میں عملی طور پر کوئی شامل نہیں ہوتا تھا،ہمارا موقف تھا کہ پارلیمنٹ میں نہ جاتے اور عدم اعتماد پیش نہ کرتے۔ہم چاہتے تھے کہ سڑکوں پر آئیں اور حکومت کو مستعفی ہونے پر مجبور کرتے۔عدم اعتماد کے بعد پی ٹی آئی نے مظلومیت کی فضاء بنا دی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن پی ڈی ایم کا حصہ ہے، دبئی میں ملاقات کے حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا،اتنا بڑا قدم اٹھانے پر ہم سے مشاورت نہیں کی گئی، یہ سوال میرے ذہن میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہا کہ 25 جولائی کے ایک ہفتے بعد تمام جماعتیں اس بات پر متفق ہوئیں کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی، بین الاقوامی دنیا عمران کو سپورٹ کر رہی ہے۔ ہم نے بین الاقوامی دنیا کو مایوس کرنا ہے،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر میرے اتحادی ہماری کردار کشی کریں گے تو مجھے برا لگے گا،ہم پر تنقید کرنے والے پہلے شیشے میں اپنی شکل دیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ماہ بعد مرکز کی حکومت کی مدت پوری ہو جائے گی وزیراعظم نے واضح کر دیا ہے کہ ہم اپنی مدت پوری کرنے پر حکومت چھوڑ دیں گے اس کے بعد الیکشن کی طرف جانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مشکلات کا بھی سامنا ہے قرضوں کا بوجھ بھی اب کم ہونا شروع ہو گیا ہے دوست ممالک کی مدد اور آئی ایم ایف سے بھی مدد مل چکی ہے معاشی بہتری کے ساتھ قیمتوں میں کمی آئے گی بہتری کی طرف سفر شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جلسوں میں بھی کہا تھا کہ ملک معاشی طور پر بہت کمزور ہے دوست ممالک کو پاکستان میں سرمایہ کاری دوسرا بڑا قدم ہو گا الیکشن وقت پر ہونگے قوم سے امید ہے کہ دوبارہ ملک کو کسی آزمائش میں نہیں ڈالیں گے ملک کو تباہی سے ہمکنار کرنے والوں سے نجات کے لیے سخت فیصلے کرنے ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی کی خدمت کے لیے تیار ہیں عالمی برادری کی ترجیحات سمجھ نہیں آ رہی۔ جو دنیا ہمارے دین کی توہین کرتی ہے اور وہی دنیا عمران کے حق میں بات کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان سی پیک اور سرمایہ کاری روکتا ہے اس کے قول و فعل میں تضاد ہے ہم نے اس کے خلاف سنجیدہ جنگ لڑی ہے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے ایجنڈے کو روکا ہے ہم نے گیارہ سال بھرپور انداز میں اپنے موقف پر قائم رہے حکومت نے حکومتی اور ریاستی سطح پر قران پاک کو جلانے کے خلاف دن منایا یہ اچھا قدم تھادنیا میں بعض واقعات ایسے بھی ہوئے جہاں لیڈر شپ نہیں تھی لیکن عوام نکلی9 مئی سے پہلے لانگ مارچ میں عوام نہیں نکلی بلدیاتی الیکشن میں جے یو ائی نے پی ٹی آئی کو ہرایافضاء کچھ اور ہے اور دیکھایا کچھ اور جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیض حمید سے ملاقات میں تین باتیں کی کہ میں اپ کو سینٹ کا رکن اور پھر چیئرمین دیکھنا چاہتا ہوں اپ نے سسٹم میں تبدیلی لانی ہے۔
Load/Hide Comments



