اسلام آباد (آن لائن) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ایک رکن اسمبلی کی تنخواہ ایک سیکرٹری سے بھی کم ہے،چیئرمین سینٹ کے حوالہ سے جو بل سینٹ سے پاس ہوا قومی اسمبلی اسے منظور نہ کرے،عوام تکلیف سے گزر رہی ہے ان حالات میں ایسی مراعات درست نہیں ہے ہم ابھی اس کے متحمل نہیں ہوسکتے، تاحیات ایسی مراعات درست نہیں، ہم اس بل کا کسی طور دفاع نہیں کرسکتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیا قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں منعقد ہوا وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ انتہائی نامساعد حالات میں بجٹ پاس کیا گیا ہے۔انشاء اللہ آئی ایم ایف والا بھی معاملہ حل ہوجائے گاملک میں پچھلے دور میں جو تباہی کی گئی اس کا ازالہ کریں گے جو اراکین پارلیمنٹ حج پر گئے ہیں مکمل طور پر خود خرچ کرکے گئے ہیں حکومت نے صرف آخری فلائٹ کی اجازت لے کر دی،حکومت نے کوئی ایک پائی بھی اس پر خرچ نہیں کی گئی سیاستدانوں کے بارے میں غلط رائے قائم کی جاتی ہیانہوں نے کہا کہ ایک رکن اسمبلی کی تنخواہ ایک سیکرٹری سے بھی کم ہے چیئرمین سینٹ کے حوالہ سے جو بل سینٹ سے پاس ہوا قومی اسمبلی اسے منظور نہ کرے،عوام تکلیف سے گزر رہی ہے ان حالات میں ایسی مراعات درست نہیں ہے ہم ابھی اس کے متحمل نہیں ہوسکتی، تاحیات ایسی مراعات درست نہیں ہے ہم اس بل کا کسی طور دفاع نہیں کرسکتے،انہوں نے کہا اس غریب قوم کے ان حالات میں سینیٹ کا منظور کردہ بل کسی صورت درست نہیں۔آئینی عہدے کو پروٹوکول کی ضرورت ہے۔وزراء کے آگے پیچھے پولیس کی گاڑیاں ہوتی ہیں تو لوگ گالیاں دیتے ہیں۔جب ہم سیاسی عہدوں پر نہیں ہوتے تو پولیس پیچھے ہوتی ہے۔اگر اتنا ہی خطرہ ہے تو سیاست چھوڑ دیں اور کوئی اور کام کریں۔ اگر کسی کی دشمنی ہے تو وہ ذاتی حیثیت میں گارڈز رکھ لے۔ اراکین وزراء مہربانی کریں پروٹوکول کیلئے ڈالے اپنی گاڈی کے پیچھے نہ لگائیں،و جب لوگوں کے گرد پروٹوکول سائرن بجتے ہیں وہ ہمیں گالیاں دیتے ہیں اللہ تعالیٰ اور پاکستان کی عوام نے اتنی عزت دی ہے۔ خواجہ آصف نے کہا ہمیں اپنے ادارے کی خود عزت کروانی ہے۔ہم ایسی مراعات کی نمائش کر کے لوگوں کی غربت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ہم ان مراعات کے حقدار نہیں ہیں۔
Load/Hide Comments



