کراچی (آن لائن)وفاقی وزیر برائے جہاز رانی و بندر گاہ فیصل سبزواری نے کہا ہے کہ یواے ای کے ساتھ پورٹ کا معاہدہ ملکی معیشت کے ساتھ کراچی پورٹ کے ریونیومیں بھی اضافے کا سبب بنے گا،مخالفین تنقید ضرورکریں لیکن اصلاح کے ساتھ ہی ملکی حالات بہترہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یم کیو ایم نے چیئرمین سینیٹ کی مراعات کے بل پر ووٹ نہیں دیا،اسحاق ڈار کا صحافی کے ساتھ ہونیوالامعاملہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ابو ظہبی گروپ کی سرمایہ کاری پر سابق وزیر خزانہ کی جانب سے غلط معلومات فراہم کرنا افسوس ناک ہے۔کراچی میں جمعہ کو کے پی ٹی ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر فیصل سبزواری نے کہا کہ دو نکات کی بنیاد پر پی آئی سی ٹی سے بات کی گئی، فروری میں قومی اسمبلی میں قانون منظور کرایا گیا، فروری میں قانون کے مطابق حکومت سے حکومت کے درمیان معاہدے ہوا، جسے تحفظ حاصل ہے۔ فیصل سبزواری نے کہاکہ سابق وفاقی وزیرنے جی ٹوجی معاہدے پر سوشلمیڈیا پرغیرسنجیدہ ٹوئٹ کی،تنقید برائے اصلاح کی جائے تواچھا ہوگا۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا ہماری برتھ پر 21 سال پرانی کرینزاورمشینیں موجود تھی۔ اب مزید 8 نئی کرینز ز اور مشینز ساوتھ ایشین پورٹ پر لگ گئی ہیں۔وفاقی وزیر جہاز رانی وبندرگاہ فیصل سبزواری نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پرپاکستان اور یو اے ای کے مابین معاہدے کے ضمن میں کہا جارہا ہے کہ ہم نے کے پی ٹی کو 5 کروڑ ڈالر میں بیچ دیاتو میں واضح طور پر یہ بتادوں کہ یہ تمام باتیں افواہیں ہیں اور میں ان خبروں کی نفی کرتا ہوں، دراصل جی ٹو جی ایکٹ کے تحت انویسٹمنٹ کیلئے دو ممالک کی حکومت کی کمپنیز کے درمیان جو معاہدے ہوتے ہیں انکو تحفظ دیا جاتاہے،کراچی پورٹ سے ریلوے لائن کو ملانے پر ابو ظبی سے بات ہوئی ہے،اس میں ہم نے فریٹ چارجز بھی بڑھائے ہیں،اس ایگریمنٹ سے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھے گی جس سے ہمارے ملک کی اکنامی میں بہتری آئیگی- فیصل سبزواری نے کہا کہ کے پی ٹی کے پاس مجموعی طور پر 33 برتھیں ہیں،ہمارے مختلف کمپنیوں کے ساتھ معاہدے ہیں،پورٹ قاسم کے ٹرمینلز دبئی ٹرمینل کمپنی کے پاس ہیں،یہ معاہدے اسی لئے کئے جاتے ہیں کہ ملک کو فائدہ ہو،یہ برتھ بیچی نہیں جاتی ہیں ان کو مخصوص وقت کے لئے کمپنیوں کو دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2020 میں انتظامیہ اور حکومت کے ساتھ پی آئی سی ٹی کے کچھ معاملات خراب ہوئے،پچھلی حکومت کے خلاف پورٹ انتظامیہ نے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کیا تھا،ہماری حکومت آئی تو کم وقت ملا،ہم ملک میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو غیرمحفوظ محسوس نہیں کروانا چاہتے۔فیصل سبزواری نے کہا کہ یو اے ای کے ساتھ جس ٹرمینل کا معاہدہ ہوا ہے وہ کے پی ٹی کا ٹرمینل ہے اورپی آئی سی ٹی پر 650براہ راست روزگار اور 2500 عارضی ملازمین کام کرتے ہیں،ہم نے پلان بنایا کہ کسی بھی ایک ملازمین کو نہیں نکالا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ دو نکات کی بنیاد پر پی آئی سی ٹی سے بات کی گئی،فروری میں قومی اسمبلی میں قانون منظور کرایا گیا ہے،فروری میں قانون کے مطابق حکومت سے حکومت کے درمیان معاہدے کو تحفظ حاصل ہے.
Load/Hide Comments



