اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت منگل کو ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال اور آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ نہ ہونے پر پلان بی پر عملدرآمد سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا جبکہ وزیراعظم سے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی بھی ملاقات ہوئی،جس میں قومی و داخلی سلامتی کے ساتھ ساتھ معاشی امور پر تبادلہ خیال ہوا۔حکومتی ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سینئر وفاقی وزراء کے ساتھ ساتھ موجودہ اور سابق اعلیٰ عسکری حکام بھی موجود تھے جبکہ معاشی ماہرین کی ٹیم اور سرمایہ کاری بورڈ کے اعلیٰ افسران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال،قرضوں کی ادائیگی،عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اور آئی ایم ایف کے حالیہ مطالبات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔شرکاء نے اس بات پر گہری تشویش کا آظہار کیا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے تمام مطالبات تسلیم کرلئے،اس کے باوجود آئی ایم ایف کا پاکستان کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ نہ کرنا افسوسناک ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ان تمام متبادل آپشنز کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کیا جو پاکستان استعمال میں لا سکتا ہے،اس حوالے سے وزیراعظم جلد قوم کو اعتماد میں بھی لیں گے جبکہ دوست ممالک کے ساتھ بھی بات چیت کی جائے گی جس میں چین سرفہرست ہے تاکہ پاکستان نے 30جون تک جو ادائیگیاں کرنی ہیں ان میں کسی قسم کی کوئی تاخیر یا رکاوٹ نہ ہو، اس حوالے سے اعلیٰ عسکری قیادت کو بھی اعتماد میں لے کر بنیادی نوعیت کے اہم فیصلے لئے جائیں گے اور ملک میں سرمایہ کاری لانے کیلئے سرمایہ کاروں کو مراعات دینے اور بعض مشکل معاشی فیصلے کرنے پر بھی غور وخوض کیا گیا.
Load/Hide Comments



