بلوچستان کے بجٹ میں مالی سال 2023-24میں زراعت کے شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 11ارب روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 11ارب87کروڑ روپے مختص کئے گئے

کوئٹہ(آن لائن)صوبائی وزیرخزانہ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا ہے کہ مالی سال 2023-24میں زراعت کے شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 11ارب روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 11ارب87کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ بات انہوں نے پیر کو بلوچستان اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہی۔ انجینئرز مرک خان اچکزئی نے کہا کہ موسمی تغیرات سے پیدا ہونے والے اثرات جن میں پانی کی قلت، طویل خشک سالی، زیر زمین پانی کے ذخائر میں کمی، صوبے میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سمیت بارشوں اور سیلاب نے اس شعبے پر انتہائی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سبسڈی کے ساتھ بلڈوزر فراہم کر کے سالانہ تقریباً24 ہزارسے27 ہزارہیکٹرزمین قابلِ کاشت بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے رواں سا ل 2.2ارب روپے کی سبسڈی دی۔انہوں نے کہا کہ رواں سال 2022-23میں محکمے کے بلڈوزر زنے 78ہزار گھنٹے کام کیا اور 5ہزار سے زائد ہیکٹر کی اراضی زیر کاشت آئی۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے بلوچستان گرین ٹریکٹر پروگرام کا آغاز کیا جس کے دوسرے فیز پہ کام جاری ہے۔ اس اسیکم کے تحت آئندہ برس 1000 ٹریکٹرز دیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت، فلوری کلچر (Floriculture)کے ذریعے سارا سال پھولوں کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ نے ٹرکل اریگیشن (Trickle Irrigation)کے نظام کوصوبہ بھر میں متعارف کروایا۔انہوں نے کہا کہ رواں سال 2022-23میں 10ہزار نرسری پلانٹس تیارکیے گیے جن کو سبسڈی ریٹ پر فروخت کیاگیا اور بعض سرکاری محکموں میں درخت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے مفت تقسیم کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال 2022-23میں کچن گارڈننگ (Kitchen Gardening) کے تحت صوبہ بھر میں ٹیموں نے آگاہی مہم کی اور مختلف گھروں کو پودے اور بیج فراہم کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ رواں سال 2022-23میں سوائل اینڈ واٹر ٹیسٹنگ (Soil & Water Testing)ڈائریکٹوریٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔یہ لیبارٹری نہ صرف محققین کوتحقیق کرنے میں سہولت فراہم کرے گی بلکہ صوبہ بھر کے طلبہ کو بھی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2023-24 میں مشروم کی کاشت سمیت ہابرڈ(Hybrid) بیج کی پیداوارپر زور دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سیلاب کے اثرات کو کم کرنے اور کاشتکار برادری کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے حکومت بلوچستان نے ”بلوچستان میں ٹریکٹر آورز کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ زرعی زمین کی بحالی“کے عنوان سے منصوبہ شروع کیا جس کی تخمینہ لاگت 4ارب روپے ہے۔ رواں مالی سال 2022-23میں 2ارب25کروڑ روپے جاری کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2023-24 میں بلڈوزر گھنٹوں کے لیے صوبے کے تما م اضلاع کے لیے 1ارب 48کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رواں سال 2022-23میں زمینداروں کو زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے بیج(seed) سبسڈی کی مد میں 2.2ارب روپے دیے گئے۔انہوں نے کہا کہ ٹنل فارمنگ کے فروغ کے لیے صوبے میں 400 سے زائد ٹنلز نصب کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ قلات اور قلعہ سیف اللہ میں کولڈ اسٹوریج پلانٹ کی تعمیر زیر غور ہے۔انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر مالی سال 2023-24میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 11ارب روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 11ارب87کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں.