حکومت نے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط تسلیم کیں، معاملہ آگے نہ بڑھ سکا،اسحاق ڈار

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کو سنبھالنے اور ڈالر کی کمی پورا کرنے کے لیے چین سمیت دوست ممالک سے رجوع کریں گے،حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام پورا کرنے کے لیے کڑی شرائط تسلیم کیں مگر معاملہ آگے نہ بڑھ سکا،آئی ایم ایف نے بیرونی فنانسنگ کی شرائط رکھی جس کو پورا کیا جا رہا ہے لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، چین کو ادا کیا گیا ایک ارب ڈالر کا قرض آج یا پیر تک واپس مل جائے گا، وفاقی بجٹ میں موجودہ ٹیکس دہندگان پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا گیا، نئے ٹیکس دہندگان سے ٹیکس اکھٹا کرکے ہدف پورا کریں گے،الیکشن نہ بھی ہوتا تب بھی بجٹ ایسا ہی پیش کرتے،اگلے مالی سال میں ساڑھے 3 فیصد جی ڈی پی گروتھ ہدف بآسانی حاصل کر لیں گے۔جمعہ کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفننگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں موجودہ ٹیکس دہندگان پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا گیا جبکہ نئے ٹیکس دہندگان سے ٹیکس اکھٹا کرکے ہدف پورا کریں گے، انہوں نے کہا کہ یوریا کھاد کی سمگلنگ روکنے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں اور ملک میں یوریا کی کمی کو پورا کرنے کے لیے فرٹیلائزرز کے شعبے کو گیس ریٹ میں ریلیف دیا ہے تاہم اس سے یوریا کی سمگلنگ میں اضافہ ہوا ہے انہوں نے کہا کہ ملک سے ڈالرز کی سمگلنگ بھی اب شروع ہوچکی ہے افغانستان میں حکومت کی تبدیلی سے ڈالرز میں کمی ہوئی جس سے پاکستان سے ڈالر سمگل ہوا اور ڈالرز کی سمگلنگ ابھی تک رکی نہیں ہے تاہم اس میں کمی ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت نے 20 کروڑ ڈالر کی سمگلنگ اور 5 ارب روپے کی سمگل شدہ چینی پکڑی ہے وزیر خزانہ نے سپر ٹیکس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غیر معمولی منافع پر ٹیکس کے حوالے سے ترمیم کی گئی ہے اور وفاقی حکومت نے اس پر قانون شامل کیا ہے اور وفاقی حکومت ہی تناسب کا فیصلہ کریگی انہوں نے کہا کہ 99 ڈی کے قانون کے تحت 50 فیصد تک ٹیکس غیر معمولی منافع پر لیا جائے گا جبکہ نان فائلر پر 0.6 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس معیشت کو دستاویزی کرنے کیلئے لگایا گیا ہے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ چین سے آج 1 ارب ڈالر آجائیں گے،جو ہم نے قرض واپس کیا دوبارہ مل رہا ہے اور حکومت چین کے ساتھ اس معاملہ پر گفت و شنید مکمل ہوچکی ہے انہوں نے کہا کہ بینک آف چائنا کے ساتھ بھی 30 کروڑ ڈالر پر بات چیت چل رہی ہے اس کے علاوہ چین کے سواپ معاہدے کے تحت بھی ڈالرز آئیں گے انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے بیرونی فنانسنگ کی شرائط رکھی جس کو پورا کررہے ہیں مگر اس کے بعد نئی شرائط عائد کی جا رہی ہیں انہوں نے کہا کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے تمام انتظامات کردئیے گئے ہیں وزیر خزانہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اس ملک کا نگہبان ہے اور یثرب کے بعد دوسری ریاست ہے جو کلمے کے نام بنی ہے اس ملک کے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ایک گیس پائپ لائن کا اثاثہ 50 ارب ڈالر کا پاکستان کے پاس ہے اس کے علاوہ ریکوڈک سے بھی 6 ہزار ارب ڈالر حاصل کئے جاسکتے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ الیکشن نہ بھی ہوتا تب بھی بجٹ ایسا ہی پیش کرتے۔ اس سال اوسط مہنگائی 29 فیصد ہے، سرکاری ملازمین سب سے زیادہ پسا ہوا طبقہ ہے، بجٹ میں پنشنرز کو بھی مہنگائی کے تناسب سے دیکھا گیا- آئندہ مالی سال کے لیے ایف بی آر کا ٹیکس ہدف سائنسی بنیادوں پر رکھا گیا ہے، ایف بی آر کا نئے مالی سال کا ہدف غیر حقیقی نہیں ہے۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مہنگائی اور شرح نمو کے حساب سے ٹیکس کا ٹارگٹ رکھا جاتا ہے، بجٹ میں 223 ارب روپے کے ٹیکس اقدامات کیے گئے-انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ پر کھڑے کنٹینرز کی کلیئرنس میں تاخیر پر چئیرمین ایف بی آر سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔