میں کسی پیسے کے معاملے میں فیصلہ نہیں دوں گا،بھول جائیں کہ 17 ارب کو 10 ارب کردوں گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے کانسٹیٹوشن ایونیو ون(گرینڈ حیات ہوٹل) سے متعلق نظر ثانی درخواستیں غیر موثر ہونے کی بنیاد پر نمٹا دی ہیں۔جمعرات کو عدالت عظمی میں کیس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت سی ڈی اے کونسل نے عدالت کو بتایا کہ یہ کیس پہلے بھی تین ججز نے سنا تھا قانون کے مطابق اب بینچ بڑھانا ہوگا،سی ڈی اے کی نظر ثانی اب غیر موثر ہو چکی،سی ڈی اے لیز منسوخ کرکے عمارت سیل کر چکا ہے۔گرینڈ حیات ہوٹل کے وکیل نے اس موقع پر موقف اپنایا کہ ہماری نظر ثانی چار نکات پر مشتمل ہے،سی ڈی اے نے 4 ارب میں لیز معاہدہ کیا،معاملہ سپریم کورٹ آیا تو عدالت نے 8 سالوں میں 17 ارب روپے جمع کروانے کی ہدایت کردی۔جسٹس اعجاز الاحسن نے اس موقع پر ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کا حکم بڑا واضح ہے،ایک بھی قسط ڈیفالٹ کرنے پر سی ڈی اے لیز منسوخ کر سکتا تھا۔گرینڈ حیات کے وکیل نے بتایا کہ پراجیکٹ کی رقم بڑھانے سے پراجیکٹ چلانا ممکن نہیں رہا،عدالت رقم اور مدت کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے اس موقع پر ریمارکس دیئے کہ میں کسی پیسے کے معاملے میں فیصلہ نہیں دوں گا،بھول جائیں کہ 17 ارب کو 10 ارب کردوں گا،اچھا کیا درخواست گزار یہ معاملہ ہائیکورٹ لے گئے،ہماری ابزرویشنز اس مقدمہ پر اثر انداز ہوں گی۔بعد ازاں عدالت عظمی نے سی ڈی اے اور ہوٹل مالکان کی نظر ثانی درخواستیں غیر موثر ہونے کی بنیاد پر نمٹا دی ہیں۔