اگست 2023کومقدس امانت نگران حکومت کے سپرد کردیں گے، شہباز شریف

اسلام آباد(آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگست 2023کومقدس امانت نگران حکومت کے سپرد کردیں گے، محض 15ماہ میں چار سالوں کی بربادیوں کا ملبہ صاف کیا، ووٹ بینک کی بجائے اسٹیٹ بینک میں اضافے کی کوشش کی، سازشوں کے سامنے ہمت نہیں ہاری، اب کشکول توڑ کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا وقت آگیا ہے،قرض کی زندگی نامنظور ہے،آئیں نفرتیں ختم کریں، محبتیں بانٹیں، ایک قوم بن کر ملک کی خدمت کریں،ہم نے مختصر مدت کی حکومت میں ریاست بچانے کیلئے سیاست کی قربانی دی،ہمیں غلامی کی زنجیریں توڑ کر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوگا،دوست اور برادر ملکوں نے خلوص دل سے ہماری مدد کی،سفارتی سطح پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، سپہ سالار جنرل عاصم منیر کی کاوشوں سے آئی ایم ایف سے سٹاف لیول معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوئے،اس حکومت نے تمام معاشی چیلنجز کے باوجود ترقی کا سفر شروع کیا، گزشتہ حکومت کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے باوجود دن رات انتھک محنت کرکے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا، سوا سال کا یہ عرصہ ناامیدی کے اندھیروں سے امید کی روشنی کی طرف ایک پرعزم سفر تھا، سب کچھ کھو جان سے کچھ حاصل ہونے کا آغازتھا، تخریب، انتشار اور فساد کے راستے تعمیر کی طرف پلٹنے کا سفر تھا۔ جمعرات کی شام قوم سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ اپریل 2022 کو آپ نے مجھے جو ذمے داری بطور وزیراعظم سونپی تھی، ملک کی بھلائی آپ کی خیر خواہی اور خدمت کی یہ مقدس امانت اگست 2023 کو ہم نگراں حکومت کے سپرد کردیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ محض 15 ماہ میں ہم نے چار سال کی بربادیوں کا حتی المقدور ملبہ صاف کیا، پاکستان مفادات کی راہ میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں صاف کیں، معیشت، خارجہ تعلقات، توانائی اور امن و امان سمیت دیگر شعبوں میں بدترین بدانتظامی، کرپشن، نالائقی اور سازشوں کی لگی آگ بجھائی۔ شہباز شریف نے کہا کہ سوا سال کا یہ عرصہ ناامیدی کے اندھیروں سے امید کی روشنی کی طرف ایک پرعزم سفر تھا، سب کچھ کھو جان سے کچھ حاصل ہونے کا آغازتھا، تخریب، انتشار اور فساد کے راستے تعمیر کی طرف پلٹنے کا سفر تھا، معاشی تباہی سے نکل کر معاشی استحکام کی طرف لوٹ آنے کا سفر تھا، تنہائی سے نکل وفا اور بااعتماد دوستوں اور بھائیوں کی محفل میں واپسی کا سفر تھا، یہ سیلاب میں گھرے تین کروڑ 30لاکھ اہل وطن کا ہاتھ تھامنے، ان کے برباد گھروندوں اور کھیت کھلیان کو پھر سے آباد کرنے کا سفر تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفر بے روزگاری سے دوبارہ روزگار کی فراہمی کا سفر تھا، مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کو کچھ ریلیف فراہم کرنے اک سفر تھا، یہ انسانی عظمت، وقار، قومی خودمختاری، میڈیا، اظہار رائے اور شہری آزادیوں کی بحالی کا سفر تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جمہوری تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کی واحد منتخب مخلوط حکومت ہے جو مختصر ترین مدت کے لیے قائم ہوئی، جس نے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے چیلنجز اور مشکلات کا سامنا کیا، الحمدللہ دراصل ایک معیار، مثال، ایک سمت متعین کی کہ کم وقت، ان گنت مشکلات اور سازشوں کے باوجودملک و قوم کو بحرانوں سے نکالا جا سکتا ہے لیکن شرط صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسے کے بعدپوری دیانتداری، دانائی، اجتماعی بصیرت اور دن رات کی مسلسل محنت سے کام کیا جائے، ہم نے یہی راستہ اختیار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس عرصے میں ہم نے سیاست نہیں کی بلکہ ریاست کی حفاظت کی، ہم نے ریاست بچانے کے لیے اپنی سیاست کی قربانی دی، ووٹ بینک کی فکر نہیں کی لیکن اسٹیٹ بینک میں مسلسل اضافے کی فکر کی، معاشی بحالی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ آئی ایم ایف کا وہ پروگرام تھا جسے سابق حکومت شرط شرائط پر کیا تھا اور پھر خود ہی اسے توڑ کر پاکستان کو دیوالیہ ہونے کے کنارے پر پہنچا دیا۔وزیر اعظم نے کہاکہ ہم آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کی کوشش میں تھے تو سابق حکمران اسے ناکام بنانے کی سازشوں میں دن رات مصروف تھے، ان وطن دشمن سازشوں کے باوجود ہم نے ہمت نہیں ہاری اور خدا کے فضل سے آئی ایم ایف کا پروگرام بحال کیا، جس کے بعد اب پاکستان کے ڈیفالٹ کا خطرہ اور ان کی ناپاک خواہش دونوں مٹی میں مل چکی ہیں۔