ہماری حکومت کی مدت 14 اگست کو ختم ہو جائے گی،آئندہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کرے گا، وزیراعظم

اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہماری حکومت کی مدت 14 اگست کو ختم ہو جائے گی،آئندہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کرے گا، نواز شریف کی قیادت میں پنجاب ایجوکیشن اینڈوومنٹ فنڈ کا قیام2008ء میں عمل میں لایا گیا،جدید تعلیم کے ذریعے ہی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی ممکن ہے، انڈوومنٹ فنڈز سے 4 لاکھ 50 ہزار بچوں اور بچیوں کو تعلیمی وظائف دیئے گئے،آج ان میں سے ہزاروں ڈاکٹرز اور انجینئرز بن چکے ہیں،ایک وقت تھا جب ہم ہمسایہ ممالک سے مقابلہ کرتے تھے،آج ہم جگہ جگہ پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کیلئے ادھار مانگ رہے ہیں، یہ حکومت وقت، سیاستدانوں، جرنیلوں اور ججز سمیت زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ جن کی قسمت میں اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ وہ اپنی کوششوں سے ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں،اصل آزادی وہی ہے جو معاشی آزادی ہے، 70 کی دہائی میں پاکستان کی فی کس آمدنی چین سے زیادہ تھی۔ پاکستان ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ اور قومی نصاب کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس سفر کا آغاز 2008 میں پنجاب سے شروع کیا تھا۔ نواز شریف کی قیادت میں پنجاب ایجوکیشن اینڈوومنٹ فنڈ کا قیام عمل میں لایا گیا،جدید تعلیم کے ذریعے ہی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی ممکن ہے آئندہ جو بھی حکومت آئے وہ تعلیمی فنڈ میں اضافہ کرے۔وزیراعظم نے بتایا کہ آج آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہے،دعا کریں کہ آئی ایم ایف میں ہمارے پروگرام کی منظوری ہو جائے،یہ لمحہ فخریہ نہیں لمحہ فکریہ ہے۔ ایک وقت تھا جب ہم ہمسایہ ممالک سے مقابلہ کرتے تھے،آج ہم جگہ جگہ پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کیلئے ادھار مانگ رہے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ انڈوومنٹ فنڈز سے 4 لاکھ 50 ہزار بچوں اور بچیوں کو تعلیمی وظائف دیئے گئے،آج ان میں سے ہزاروں ڈاکٹرز اور انجینئرز بن چکے ہیں۔کوشش رہی ہے کہ انڈوومنٹ فنڈ کو 2 سے بڑھا کر 5 ارب کردوں،خواہش ہے آئندہ 10 سال میں 140 ارب تعلیم کیلئے مختص ہوں۔ شہباز شریف نے کہا کہ جب ملک سے باہر تھا تو ڈاکٹرامجد ثاقب سے تعلیم پر گفتگو کی،تعلیم کے ذریعے ہی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی ممکن ہے،غریب گھرانوں کے بچے تعلیم کے حصول کے لئے مالی وسائل سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مالی مسائل وسائل سے زیادہ ہے ہیں،پاکستان کی زمین زرخیزہے،پہاڑ،پانی،معدنی وسائل ہیں،پاکستان پرمشکل وقت جلد ختم ہوگا اور استحکام کی جانب آئیں گے۔صحرا خلیج چلے جائیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے،پاکستان میں بھی نوجوان ہی انقلاب لاسکتے ہیں،تعلیم کا فروغ سیاست نہیں عبادت ہے،ان کا کہنا تھا کہ آج آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس ہے جس میں پاکستان کو قرض پروگرام پر بات ہوگی،دعا کریں آج آئی ایم ایف میں پروگرام کی منظور ی ہوجائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین نے پاکستان کی ہرمشکل میں مدد کی،ہم چینی قیادت کے مشکور ہیں،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دوست ممالک نے مشکل وقت میں مالی مدد کی،۔وزیراعظم نے کہا کہ یقین دلاتا ہوں ہماری حکومت کی مدت14اگست کوختم ہوجائیگی اور اکتوبر نومبر میں جب بھی الیکشن ہوتے ہیں، الیکشن کمیشن آئندہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے گا۔شہباز شریف نے کہا کہ یہ شادیانے بجانے والی بات نہیں ہے، یہ حکومت وقت، سیاستدانوں، جرنیلوں اور ججز سمیت زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ جن کی قسمت میں اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ وہ اپنی کوششوں سے ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں، یہ ان سب کے لیے اور میرے لمحہ فکریہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ہمسایہ ممالک ہم سے بہت آگے چلے گئے جب کہ ایک زمانہ تھا کہ ہم ان کے ساتھ مقابلہ کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ کل بھی میں نے کہا کہ 80 اور 90 کی دہائی تک ہم ٹیکسٹائل کے شعبے میں ان سے آگے تھے، ہمارے روپے کی قدر ان سے زیادہ تھی، آج کوئی مقابلہ نہیں ہے، یہ ایسی تکلیف ہے کہ رات کو بھی نیند نہیں آتی لیکن قوموں پر جب تکلیف و مشکلات آتی ہیں تو پھر وہ اپنی کمر کستی ہیں اور فیصلہ کرتی ہیں کہ ہم نے حالات و مشکلات کا مقابلہ کرنا ہے اور اپنا مقام حاصل کرکے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ جرمنی اور جاپان سے زیادہ بہتر مثال نہیں مل سکتی جنہیں طاقتور بموں نے انہیں تباہ کردیا لیکن آج ان دونوں ممالک کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج ہم پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے جگہ جگہ جا کر ادھار مانگ رہے ہیں، آئی ایم ایف کی منتیں کر رہے ہیں، زندگی بسر کرنے کا یہ طریقہ نہیں ہے، اصل آزادی وہی ہے جو معاشی آزادی ہے، 70 کی دہائی میں پاکستان کی فی کس آمدنی چین سے زیادہ تھی، ہماری جی ڈی پی ان سے زیادہ تھی، آج چین کہاں اور ہم کہاں ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ چین ہمارا بہت اچھا دوست ہے، مشکل کی اس گھڑی میں جس طرح سے چین نے ہمارا ہاتھ تھاما، نہ میں ان کا شکریہ ادا کرسکتا ہوں، ان کو محسوس ہوگیا تھا کہ پاکستان بہت خطرے میں ہے تو انہوں نے ایک دوست کی طرح ہمارا ہاتھ تھاما اور گزشتہ 3 ماہ میں انہوں نے ہمیں 5 ارب ڈالر واپس کیے، سعودی عرب نے 2 ارب ڈالر خزانے میں جمع کرائے، ایک ارب ڈالر یو اے ای سے بھی ایک آدھ دن میں پہنچ جائے گا۔شہباز شریف نے کہا کہ ہم ان کے شکر گزار ہیں لیکن یہ زندگی گزارنے کا طریقہ نہیں ہے، ہمیں اس کو بدلنا ہوگا، اس کو بدلنے کا راستہ تعلیم کا راستہ ہے جس میں زراعت، سائنس اور معدنیات سمیت دیگر شعبے شامل ہیں۔