نو مئی واقعات کا ماسٹر مائنڈ چیئرمین پی ٹی آئی ہے،راناثناء اللہ

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہاہے کہ نو مئی کے واقعات کا ماسٹر مائنڈ چیئرمین پی ٹی آئی ہے،9 مئی واقعات میں ملوث ٹولے کے علاوہ سب کو الیکشن کی اجازت ہونی چاہئے،اکثریتی رائے ہے کہ آئین کے مطابق اسمبلیاں مدت پوری کریں اور الیکشن وقت پر ہوں،ذاتی طو رپر سمجھتا ہوں نواز شریف کو وزیراعظم بننا چاہئے،شہباز شریف نے مشکل حالات میں بہت اچھی پرفارمنس دی،شہباز شریف نے اتحادی حکومت کے ہوتے ہوئے کمال کر دکھایا،دبئی میں کون وزیراعظم بنے گاایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، ہمارے لیڈر کو جیل بھجوایا گیا اور ہم نے الیکشن لڑ کر دکھایا،واویلا کرنے کی بجائے وہ ہمت کریں اور الیکشن لڑیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کیا۔وزیر داخلہ نے کہا الیکشن کمیشن نے الیکشن کا شیڈول دینا ہے۔اکتوبر کا دوسرا ہفتہ یا نومبر کا پہلا ہفتہ ہوالیکشن ہو نگے۔اسمبلیوں کی مدت کے بعد نگران سیٹ اپ آئے گا۔انہوں نے کہا الیکشن کمیشن شیڈول دینے میں آزاد ہے۔ ایک سوال پر وزیرداخلہ نے کہانواز شریف واپسی کا فیصلہ خود کریں گے۔نواز شریف کوواپس آکر الیکشن مہم کا آغاز کرنا چاہئے۔نواز شریف کا الیکشن کمپین میں حصہ لینے سے پارٹی کو فائدہ ہوگا۔ذاتی طو رپر سمجھتا ہوں نواز شریف کو وزیراعظم بننا چاہئے۔نواز شریف چوتھی مرتبہ وزیراعظم بن کر تاریخ رقم کریں گے۔وزیر داخلہ نے کہا و زیراعظم شہباز شریف نے مشکل حالات میں بہت اچھی پرفارمنس دی،شہباز شریف نے اتحادی حکومت کے ہوتے ہوئے کمال کر دکھایا۔ شہباز شریف نے مشکل حالات میں کم بیک کیا ہے۔شہباز شریف نوازشریف کے چوتھی بار وزیراعظم بننے کے حامی ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں راناثناء اللہ نے کہا نواز شریف کو ریلیف اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملنا ہے۔اگر ہائیکورٹ سے ریلیف ملے گا تو سپریم کورٹ میں چیلنج کے کوئی معنی نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا ہائی کورٹ کے فیصلے میں مریم صفدر کیپٹن (ر) صفدر کوبری کیا گیا۔نواز شریف کو اس کیس میں ریلیف ملنے کے چانسز زیادہ ہیں۔62 ایف ون کے حوالے سے قانون سازی ہو چکی ہے۔سپریم کورٹ میں فیصلہ زلرالتواء ہے۔جس بندے کے پاس فیصلہ ہے اس بنچ پر ہمیں تحفظات ہیں۔امید ہے16 ستمبر سے پہلے چیف جسٹس کوئی فیصلہ کر کے جائیں گے۔چیف جسٹس نے قانون کو بننے سے پہلے ہی معطل کر دیا۔ریلیف صرف نواز شریف نہیں اور بھی لوگوں کو ملے گا۔ وزیر داخلہ نے کہا بئی میں ملاقات ضرور ہوئی ہے۔دبئی ملاقات میں آصف زرداری، بلاول بھٹو، مریم نواز موجود تھے۔تاہم اس ملاقات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے کوئی فیصلے نہیں ہوئے۔کون وزیراعظم بنے گا؟ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا،دبئی میٹنگ میں واضح ہوا کہ اسمبلیوں کی مدت کے بعد الیکشن بروقت ہو نگے۔پیپلز پارٹی نے تو آج اسمبلیوں کی تحلیل کی تاریخ بھی دیدی ہے۔انہوں نے کہا انتخابی حلقوں میں بڑے پریشر ہوتے ہیں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بات ایسے نہیں ہو سکتی۔سیٹ ایڈجسٹمنٹ بارے جب بھی فیصلہ ہو گا لیڈر شپ فیصلہ کرے گی۔انہوں نے مزید کہا بطور سیاستدان میری رائے ہے پی ٹی آئی کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجا زت ہونی چاہئے۔وزیر داخلہ نے کہا 9 مئی کو شہداء کی یاد گاروں کو جلایا گیا۔جو ٹولہ9 مئی واقعات کا ذمہ دار ہے اس کو سیاست کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔9 مئی واقعات میں ملوث ٹولے کے علاوہ سب کو الیکشن کی اجازت ہونی چاہئے۔2018 کے الیکشن میں (ن) لیگ کے امیدواروں کو مارا گیا۔مسلم لیگ کے امیدواروں کو کہا گیا(ن) لیگ کا ٹکٹ واپس کرو۔ان کو ہم نے نہیں کہا تھا کہ9 مئی کو جی ایچ کیو، ریڈیو پاکستان کی بلڈنگ کو جلا دیں۔انہوں نے کہا انہوں نے کہا چیئرمین پی ٹی آئی9 مئی واقعات کا کا ماسٹر مائنڈ ہے۔آڈیو، ویڈیو شواہد کے مطابق لوگوں کو گمراہ کیا گیا۔انہوں نے بیانیہ بنایا تھا عمران خان کی گرفتاری ریڈ لائن ہو گی۔انہوں نے بیانیہ بنایا کہ آزادی چھینیں گے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے9 مئی کو باقاعدہ ڈیوٹیاں لگائی تھیں۔وزیر داخلہ نے کہا یہ نہیں ہو سکتا جس بندے نے الیکشن میں حصہ لینا ہے تو تحقیقات نہیں ہو گی۔اگر ایک پارٹی کا لیڈر جیل میں ہو گا تو کیسے الیکشن لڑے گا ہم نے لڑ کر دکھایا تھا۔اب کونسی قیامت برپا ہونے والی ہے جو شور کیا جا رہا ہے۔اس (عمران خان)کیلئے کبھی زلمے خلیل زادہ اور کبھی کوئی اور شور مچا رہا ہے۔ہمارے لیڈر کو جیل بھجوایا گیا اور ہم نے الیکشن لڑ کر دکھایا،واویلا کرنے کی بجائے وہ ہمت کریں اور الیکشن لڑیں۔9 مئی واقعات کی جے آئی ٹی تحقیقات کررہی ہے۔آرمی اور سویلین سائیڈ سے انویسٹی گیشن ہو رہی ہے،شہزاد اکبر کی طرح روز میڈیا پر آکر تحقیقات کے بار ے میں نہیں بتا سکتا۔میرٹ کی بنیاد پر چالان کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔