لاہور (آن لائن) نائب امیر جماعت اسلامی، مجلس قائمہ سیاسی انتخابی قومی امور کے صدر لیاقت بلوچ نے خار (باجوڑ) میں عوامی ورکرز کنونشن اور سابق ایم پی اے سراج الدین خان کے حجرہ پر مشران/ملکان کے اعزاز میں ظہرانہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں کی عوام محب دین اور محب وطن ہے، ہر مشکل گھڑی اور امتحان میں قبائلی عوام نے پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت، افغانستان سے روسی، امریکی استعمار کو بھگانے اور کشمیر کی آزادی کے لیے ہمیشہ مرکزی قائدانہ کردار ادا کیا ہے اور قربانیاں دی ہیں۔ قبائلی علاقہ جات جہاں پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہیں وہیں عالمی قوتوں کا بھی مرکز نگاہ ہیں۔ خیبرپختونخوا میں ضم شدہ اضلاع کے عوام مطمئن اور پْراْمید ہوں گے تو پاکستان خوشحال اور مستحکم ہوگا۔ جماعت اسلامی کی قیادت اور کارکنان نے باجوڑ اور دیگر علاقوں میں جماعت، اسلامی کو قرآن و سنت کے پیغام، وحدت و یکجہتی، ایثار و قربانی اور عوامی خدمات کے ذریعے مقبول جماعت بنایا ہے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے عوام کے ساتھ 25 ویں آئینی ترمیم کے موقع پر وعدوں پر آج تک عمل نہیں کیا گیا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ قبائلی اضلاع کے 1000 ارب روپے کے خصوصی پیکج اور سالانہ 100 ارب روپے ترقیاتی فنڈ دینے کے وعدوں پر بلاتاخیر عملدرآمد کیا جائے۔ خیبرپختونخوا بالخصوص قبائلی اضلاع کے لاپتہ افراد کو بازیاب اور عوام سے ڈائیلاگ کے ذریعے اُن کا اعتماد بحال کیا جائے۔ ضم شدہ اضلاع اور مالاکنڈ ڈویڑن میں ٹیکسوں کا نفاذ سراسر ظلم ہے۔ یہ علاقے عرصہ دراز سے امریکی مسلط کردہ نام نہاد جنگ اور قدرتی آفات کا شکار ہیں، اس لیے ضم شدہ اضلاع بالخصوص مالاکنڈ ڈویڑن میں ٹیکسوں کے نفاذ میں مزید 10 سال رعایت جاری رکھی جائے اور یہاں کے عوام کی پسماندگی دور کرنے کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتیں مل کر عملی اقدامات کریں۔ جماعتِ اسلامی ضم شدہ اضلاع کے عوام کے مسائل کے حل تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔ عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے جماعتِ اسلامی کا ساتھ دیں۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ آئی ایم ایف کی غلامی پر سِول-ملٹری اسٹیبلشمنٹ، پی پی پی، مسلم لیگ اور پی ٹی آئی ایک پیج پر ہیں۔ یہ وقت تھا کہ عمران خان ایبسولوٹلی ناٹ کا نعرہ بلند کرتے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی غلامی اور دوست ممالک سے بھیک مانگ کر نہیں قومی معیشت کی بحالی کے لیے سْود کا خاتمہ خودانحصاری، اپنی قوم اور وسائل پر اعتماد اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کی انمٹ محبتوں کے اعتماد کو بحال کرنا ہوگا۔ نااہل، کرپٹ اور مفادپرست مقتدر ٹولے اقتصادی بحران کا خاتمہ نہیں کرسکتے۔لیاقت بلوچ نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگست میں اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد 60 دِن یا 90 دِن میں انتخابات آئین کی حتمی پابندی ہے، فرار کا کوئی چور راستہ نہیں۔ آئین توڑنے، جمہوریت کے قتل کی بجائے بروقت اور صاف شفاف انتخابات قومی سلامتی، خوشحالی اور استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔ عالم اسلام سویڈن میں قرآن کی توہین پر سراپا احتجاج ہے، اتحادی حکومت کی اتحادی سیاست بھی ہمیشہ کی طرح المناک انجام سے دوچارہورہی ہے۔ اتحادی سیاست نہیں ملک کو اہل، دیانت دار، محب دین، محب وطن سیاست اور قیادت کی ضرورت ہے.
Load/Hide Comments



