لاہور (آن لائن) نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے ممکنہ سیلاب کے خدشہ کے پیش نظرآج دریائے راوی کا دورہ کیا اور دریا میں پانی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔محسن نقوی نے متعلقہ محکموں ا وراداروں کو پانی کے بہاؤکو 24گھنٹے مانیٹرکرنے اورانسانی جانوں کے تحفظ کے لئے دریائے راوی کے بیڈمیں موجود آبادیوں کے انخلاء کا حکم دیا۔نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے محکمہ آبپاشی،پی ڈی ایم اے،ریسکیو1122کو چوکس رہنے اورتمام ضروری انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دریائے راوی کی قریبی آبادیوں میں ریلیف و میڈیکل کیمپس قائم کیے جائیں اورتمام تیاریاں مکمل رکھی جائیں۔ پیشگی انتظامات کے سلسلے میں کوتاہی یا غفلت برتنے کی کوئی گنجائش نہیں۔وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے میڈیکل کیمپ اور ریسکیو 1122 کی کمانڈ پوسٹ کامعائنہ کیا اور ریسکیو کی فرضی مشقیں بھی دیکھیں۔کمشنر لاہور ڈویژن محمد علی رندھاوا نے ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کیلئے کئے گئے انتظامات کے بارے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بھارت نے 185,000 کیوسک پانی اُجھ بیراج سے دریائے راوی میں چھوڑاہے اوراس وقت دریائے راوی سے 14 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے۔انتظامیہ نے کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔بعدازاں نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ انڈیا نے معمول کے مطابق پانی چھوڑا ہے،فی الحال سیلاب کا خطرہ نہیں۔گزشتہ برس بھی بھارت نے اتنا ہی پانی چھوڑا تھا اور31ہزار کیوسک پانی یہاں پہنچا تھا۔حالیہ بارشوں اورممکنہ سیلاب کے خدشے کے باعث پوری انتظامیہ الرٹ ہے۔چیف سیکرٹری اورانسپکٹر جنرل پولیس نے گزشتہ روز 4گھنٹے طویل میٹنگ میں پیشگی انتظامات کا جائزہ لیا۔صوبائی وزراء بھی فیلڈ میں ہیں اورصورتحال کو مانیٹر کررہے ہیں۔جوکچھ انسانی بس میں ممکن ہوا وہ تمام انتظامات کریں گے۔ انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے دریا کے اندر آبادیوں سے انخلاء یقینی بنارہے ہیں۔دریا کے بیڈمیں تجاوزات قائم ہوچکی ہیں جنہیں ختم کرناضروری ہے۔ممکنہ سیلاب کے خدشے کے پیش نظر انتظامات اورتیاریاں شروع کردی ہیں۔لاہور میں 19اورشیخوپورہ میں 16مقامات ریلیف کیمپس قائم کیے جاچکے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انڈیا کی طرف سے زیادہ پانی چھوڑے جانے سے پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی کی کیفیت ہوسکتی ہے۔آج صبح10بجے انڈیا کی طرف سے پانی چھوڑنے کی اطلاع آئی اورمتعلقہ ادارے فوری طورپر دریائے راوی پر پہنچ گئے۔ڈیرہ غازی خان اورراجن پور میں رودکوہیوں کے انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے صوبائی وزیر بلال افضل پہنچ چکے ہیں۔دریاؤں کے اندر آبادیاں نہیں بننی چاہئیں،اس سے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ آتی ہے۔پنجاب بھر میں ڈینگی کے خطرے سے نمٹنے کیلئے انتظامات شروع کیے جاچکے ہیں۔ محرم الحرام کیلئے سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے چیف سیکرٹری اورآئی جی نے گزشتہ روز اہم میٹنگ کی اوراس ضمن میں تیاریوں کو حتمی شکل دی۔والٹن روڈپر سی بی ڈی کا پراجیکٹ 8ماہ میں ختم ہوجائے گااورآئندہ سال والٹن روڈ پر پانی کھڑے ہونے کا ایشونہیں ہوگا۔سیلاب کی صورت میں انسانی جان بچانا پہلی ترجیح ہے،اسی لئے دریاکے اندر موجود کچے گھروں کو خالی کرارہے ہیں۔دریاؤں کے بیڈ میں موجودمویشیوں کو بھی نکالا جائے گا۔ صوبائی وزراء اظفر علی ناصر، منصور قادر،عامر میر، ایڈیشنل چیف سیکرٹری،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، سیکرٹریز آبپاشی، لائیوسٹاک،سی سی پی او لاہور،کمشنر لاہورڈویژن،ڈی جی پی آر،ڈپٹی کمشنر لاہور، ڈی جی ریسکیو1122،ڈی جی پی ڈی ایم اے اورمتعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔
Load/Hide Comments



