اگر ٹیلی کام کمپنیاں سروس بہتر نہیں بناتی تو ان کو زیادہ جرمانہ کیا جائے،وفاقی وزیر امین الحق

اسلام آباد(آن لائن) میر خان محمد جمالی کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ٹیلی نار کی جانب سے چترال میں غیر معیاری سروس کے معاملہ پرڈی جی پی ٹی اے نے بتایا کہ 128 چترال میں سائٹس ہیں 98 ٹیلی نار کی ہیں،چترال میں سروس کے معیار کے حوالے سے سروے کیا گیا،سروے میں ٹیلی نار کی چترال میں غیر معیاری سروس پائی گئی،ٹیلی نار کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کے بعد انہوں نے کچھ بہتری لائی،لیکن پھر بھی سروس کا معیار بہتر نہ ہوسکا،اگلے ہفتے ٹیلی نار کو لیگل آردڑ جاری کیا جائے گا،نمائندہ ٹیلی نار نے بتایا کہ ایل سیز کے نہ کھلنے کے باعث بھی ہمیں مشکلات کا سامناتھا،اس وجہ سے کام سست روی کا شکار ہوا،کوشش ہے اگر پی ٹی سی ایل سے فائبر مل جائے تو پہاڑی علاقے میں ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ کا مسئلہ حل ہوجائے گا،مولانا عبدالکبر چترالی نے کہا کہ پہلے چترال میں بار بار کال ملانے پر بھی کال نہیں ملتی تھی، اب کال مل جاتی ہے لیکن معیار بہتر نہیں ہے،وفاقی وزیر آئی ٹی امین الحق نے کہا کہ ٹیلی کام کمپنیاں سروسز بہتری کے لئے اپنی روش درست کریں۔اگر ٹیلی کام کمپنیاں سروس بہتر نہیں بناتی تو ان کو زیادہ جرمانہ کیا جائے۔قائمہ کمیٹی نے سائبر کرائمز کراچی کو آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا گیا۔کمیٹی نے سائبر کرائمز کے حوالے سے ان کے پاس کتنی شکایات ہیں تفصیلات مانگ لیں۔