نائلہ کیانی سمیت تین پاکستانی کوہ پیماؤں نے پاکستان کی دوسری بلند ترین چوٹی نانگا پربت کو سر کر لیا

اسلام آباد (آن لائن) پاکستانی کوہ پیما نائلہ کیانی سمیت تین پاکستانی کوہ پیماؤں نے پاکستان کی دوسری بلند ترین چوٹی “مونٹین کلر” ننگا پربت سر کرلیا۔ 10 پاکستانی سمیت 40 سے زائد کوہ پیما ننگا پربت سر کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن پاکستانی مشہور کو پیماہ ثمینہ بیگ، نائلہ کیانی اور واجد اللہ نگری نانگاپربت پہاڑ سر کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے اتوار کی صبح 11 بجکر 8 منٹ پر انتہائی بلندی اور خطرناک چوٹی سر کر لی دس غیر ملکی کوپیماہ بھی نگاپربت سر کرنے میں کامیاب ہوئے۔ثمینہ بیگ اس سے قبل کیٹو اور ماؤنٹ ایوریسٹ سر کر چکی ہیں۔ثمینہ بیگ کو 8 ہزار میٹر بلند پہاڑ سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون کوپیماہ کا اعزار حاصل ہے۔ معروف نوجوان کوہ پیما واجد اللہ نگری نے دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی ننگا پربت پر قومی پرچم لہرا دیاواجد اللہ نگری نے دیامر بیال سیکشن سے اپنی مہم جوئی کا آغاز کیا تھاواجد اللہ نگری نے یہ کارنامہ اپنی پہلی کوشش میں ہی انجام دیکر ملک و قوم کا نام روشن کیاواجد اللہ نگری شیرپاز کی مدد کے بغیر چوٹی سمٹ کرنے میں کامیاب ہوئے۔21 فیصد اموات کی شرح کے ساتھ نانگا پربت دنیا کے خطرناک ترین پہاڑوں میں سے ایک نانگا پربت کی انچائی 8126میٹر ہے، اسے قاتل پہاڑ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔نائلہ نے حال ہی میں دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرکے تاریخ رقم کی تھی۔