کراچی(آن لائن)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے شہر بھر میں پانی کی شدید قلت اور بحران بالخصوص ضلع وسطی میں پانی کی عدم فراہمی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں،لوگوں سے عید کی خوشیاں بھی چھین لی ہیں،سندھ حکومت اور کراچی کے سلیکٹڈ میئر بتائیں کہ اہل کراچی کے پانی کے سنگین اور دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ وہ پانی کا مسئلہ فوراًحل کریں ورنہ گھر جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی وفاق میں بھی حکومت ہے اور 15سال سے مسلسل سندھ میں بھی ہے اور اب جعلی انتخاب کے ذریعے اس نے کراچی پر اپنا مئیر مسلط کروادیا ہے، اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کے پانی اور بجلی کے مسئلے کو فی الفور حل کرے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ شہر میں سخت گرمی اور حبس کے موسم میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کے ساتھ پانی کے بڑھتے بحران نے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے اور ان کو شدید ذہنی و جسمانی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ عوام بجلی کی بندش پر کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، عید الاضحیٰ کے موقع پر اگر پانی کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو عوام پانی کے لیے بھی سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کو اس کے حصے کا جو پانی ہے وہ بھی پورا نہیں دیا جاتا اور جو دیا جاتا ہے وہ بھی سرکاری سرپرستی میں ٹینکر مافیا اور پانی چوروں کی ملی بھگت کے باعث شہریوں کو نہیں مل پاتا۔ واٹر بورڈ کی لائنوں اور گھروں کے نلکوں میں پانی نہیں آتا اور شہری ٹینکرز سے مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں،K-4منصوبہ 18سال سے مسلسل تعطل کا شکار ہے، سلیکٹڈ میئر دعویٰ کر رہے ہیں کہ پانی کے مسئلے کے حل کے لیے سمندر کے پانی کو میٹھا کرنے کا پلانٹ لگایا جائے گا اورK-4منصوبہ مکمل کیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی 15سال سے مسلسل سندھ میں اقتدار میں ہے وہ بتائے کہ پانی کا مسئلہ ابھی تک حل کیوں نہیں کیا گیا؟ کئی بار K-4منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا جاچکا ہے لیکن یہ منصوبہ تا حال مکمل کیوں نہیں ہوا؟ وزیرا علیٰ سندھ بھی اکثر اعلانات کرتے ہیں کہ کراچی کے پانی کے کوٹے میں اضافے کی بات کی جائے گی مگر ابھی تک عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا؟ صرف زبانی جمع خرچ اور دعوؤں سے کراچی کے عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشیں کی جارہی ہیں.
Load/Hide Comments



