آئی ایم ایف سے معاہدہ، حکومت کا عوام پر مزید 215ارب کے نئے ٹیکس لگانے کا فیصلہ

آئندہ مالی سال کیلئے بجٹ اہداف بھی تبدیل،ٹیکس وصولیوں کا ہدف 9ہزار 2سو ارب سے بڑھا کر 9ہزار 416ارب روپے کردیا گیا
آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کر دیں،فنانس بل میں ترامیم لائی جارہی ہیں آئندہ مالی سال کے لیے اخراجات میں 85 ارب روپے کمی کا فیصلہ کیا ہے، کمی کا اطلاق ترقیاتی فنڈز، تنخواہوں اور پنشن پر نہیں ہوگا،اسحاق ڈار
آئی ایم ایف سے معاہدے کو عوام کے لیے ویب سائٹ پر جاری کروں گا
فاقی حکومت کے اخراجات کا تخمینہ 14 ہزار 4سو 80 روپے کوجائے گا،بجٹ میں بہتری آئی ہے فسکل ڈیفیسٹ میں 300 ارب کا فائدہ ہوگا
قوم کو یقین دہانی کرانا چاہتا ہوں مالی مشکلات کی کئی وجوہات ہیں،پچھلی حکومت کی پالیسیز کی وجہ برے اثرات مرتب ہوئے،اللہ کا شکر ایسے جتھوں سے پاکستانی عوام باخبر ہوچکے ہیں، عوام نے موقع دیا تو نامکمل معاشی ایجنڈا پورا کریں گے،24ویں بڑی معیشت کا مقام جلد حاصل کرینگے۔پاکستان کو جلد جی ٹونٹی میں شامل کرینگے،
تمام معزز اراکین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔جنہوں نے بجٹ پر تجاویز دیں ہیں،دفاعی بجٹ میں اضافے، شمسی توانائی شعبے کے فروغ سمیت 59 تجاویز ہیں،پوری کوشش کی گئی ہے جن تجاویز پر عمل درآمد ممکن ہو ان کو منظور کیا جائیگا،
سپر ٹیکس کی کم سے کم حد 30 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کی جا رہی ہے،ش نکلوانے پر 0.6 فیصد ٹیکس کا مقصد ڈاکومنٹیشن بڑھانا ہے
پرانے پنکھوں پر دو ہزار روپے ٹیکس کا نفاذ یکم جنوری 2024 سے ہوگا،پنکھے مہنگے نہیں کیے بلکہ بجلی بچانے کیلئے اقدام کیا ہے،پنکھے بنانے والی کمپنیوں کو چھ مہینے کا وقت دیا ہے
رواں مالی سال یوٹیلیٹی اسٹورز پر رمضان پیکج کے علاوہ 24 ارب کی سبسڈی فراہم کی گئی۔آئندہ مالی سال کے لیے یوٹیلیٹی سٹورز پر رمضان پیکج کے لیے 5 ارب کے علاوہ 34 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی، بی آئی ایس پی کے لیے 459 کے بجائے 466 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے،دفاعی بجٹ کے ضمن میں تمام ضروریات پوری کی جائیں گی
قومی بچت کی سکیموں میں سرمایہ کاری کی حد کو بڑھا کر 75 لاکھ کردیا ہے، حکومت کے پاس 60 روپے سے زیادہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی عائد کرنے کا اختیار نہیں ہوگا، ضم شدہ قبائلی علاقوں کے لیے آئندہ مالی سال 57 ار ب کا ترقیاتی اور 66 ارب روپے کا غیر ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے
رواں مالی سال اعلان کردہ کفایت شعاری اقدامات پر آئندہ مالی سال بھی عملدرآمد کیا جائے گا ،ریٹائرڈ افسران کی دو یا دو سے زیادہ اداروں سے پینشن وصولی کے عمل کو روک رہے ہیں،پنشنر اور اسکے شریک حیات کی وفات کے بعد ورثا ء کو دس سال تک پنشن ادا کی جائے گی