اسلام آباد (آن لائن) قومی اسمبلی کے اجلاس میں ملک میں بد ترین لوڈ شیڈنگ پر اراکین اسمبلی سیخ پا ہو گئے۔ چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے اپنی ہی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ بجلی محکمے کے لوگ بند کرتے ہیں گالیا ں ہم کھاتے ہیں وزیر توانائی و پیٹرولیم نہیں آتے،ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے ہیں،سید خورشید شاہ نے کہا کہ تھی بے نظیر بھٹو نے تھرکول کے 5ہزار میگا واٹ کا معائدہ کیا تھا اس کو منسوخ نہ کیا جاتا تو آج لوڈشیڈنگ نہ ہوتی، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم دورانی نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں شیڈول سے ہٹ کر لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے بصورت دیگر متعلقہ محکموں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ جمعہ کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم دورانی کی سربراہی میں منعقد ہوا،اجلاس میں چیئرمین پی اے سی نورعالم خان نے کہاکہ بجلی محکمے کے لوگ بند کرتے ہیں گالیا ں ہم کھاتے ہیں وزیر توانائی پیٹرولیم نہیں آتے،ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے ہیں پورے ملک میں لوڈشیڈنگ ہورہی ہے بجلی مہنگی بھی کررہے ہیں اور بجلی دے بھی نہیں رہے۔ میرے علاقے میں کئی کئی گھنٹے بجلی نہیں ہے۔ شیڈول لوڈشیڈنگ کریں گرمی بہت زیادہ ہے لوگوں کو بجلی بھی نہیں دے رہے ہیں۔آٹا سستا نہیں دے رہے مہنگی بجلی نہیں دے رہے سردیوں میں گیس نہیں دیتے،آپ ہمارے پیچھے نیب نہیں لگاتے باقی مہنگائی لوڈشیڈنگ آپ کنٹرول نہیں کررہے ہیں۔ جمعہ کو 12بجے سے2بجے تک لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہیے۔اس پر ڈپٹی سپیکر نے کہاکہ میرے حلقے میں 3دن سے بجلی نہیں ہے شیڈول کے مطابق لوڈشیڈنگ کی جائے اگر اس کے خلاف ہوتا ہے تو پارلیمنٹ حساب لے گی۔بجلی کا بہت اہم مسلہ ہے نہ وزیر ہے اور نہ پارلیمانی سیکرٹری موجود ہے۔ وزیرتعلیم رانا تنویر نے کہاکہ میں نے نور عالم کو مشکل سے چیئرمین پی اے سی بنایا تھا 2013میں 20گھنٹے لوڈشیڈنگ تھی ہم نے بجلی کے کارخانے لگائے اور بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کردی۔ آبادی اور کاروبار اور نئی فیکٹریوں کی وجہ سے طلب بڑی ہے۔پچھلے چار سال میں کوئی بجلی پیدا کرنے کے کارخانے نہیں لگائے ہمارے دور میں سرپلس بجلی تھی مگر آج دوبارہ 6گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہے۔ وزیر بجلی خرم دستگیر کام کررہے ہیں قوم نے موقع دیا تو بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کردیں گے۔ ہر ادارے کو آئینی حدود میں رہے کر کام کرنا چاہیے۔عدلیہ اپنے اختیارات سے تجاوز کررہی ہے اپنے مرضی سے آئین کی تشریح کرتی ہے اس سے بڑی زیادتی کوئی نہیں ہے۔ سارے ادارے مل کر کام کریں گے تو ملک معاشی مسائل سے باہر نکلے گا۔دو سال میں پاکستان کی حالت بہتر ہوجائے گی۔ میر منور علی تالپور نے لوڈشیڈنگ پر بات کی اجازت نہ دینے پر ایوان سے واک آؤٹ کر گئے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل سید خورشید شاہ نے کہاکہ ہم ایک حکومت میں ہیں ایک ہی مقصد ہے وزیر نے کہاکہ 2013میں 20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ تھی۔ایک کمیٹی بنائی جائے کہ 2008میں لوڈشیڈنگ کی صورتحال تھی 2013میں کیا صورتحال تھی بے نظیر بھٹو نے تھرکول کے 5ہزار میگا واٹ کا معائدہ کیا تھا اس کو منسوخ کیا تھا اگر وہ نہیں ہوتا تو لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی وہ سستی بجلی ہوتی تیل سے 45روپے فی یونٹ بجلی بنتی ہے 2013سے 2018تک جو کارخانے لگے وہ ابھی چل رہے ہیں 2600میگا واٹ تھر کول سے آرہی ہے مزیر ایک ہزار میگاواٹ ہر کام چل رہاہے قوم کو پتہ ہونا چاہیے کس نے کیا ظلم کیا 1995میں ایک رات معاہدہ کیا اس کو منسوخ کیا کہ وزیر نے رشوت لی ہے سو موٹو کے ذریعے اس معاہدہ کو ختم کیا گیا اگر وہ ایل پی جی آتی تو پاکستان کا یہ حال نہ ہوتا جن لوگون نے یہ کیا ہے ان سے حساب ہونا چاہیے آج کم 25سے 30ڈالر میں ایل پی جی مل رہی ہے۔تیل سے بجلی بنانا ہم افورڈ نہیں کرسکتے ہیں ساہیوال کا منصوبہ بند پڑا ہے اگر اس کو سمندر پر لگاتے تو 3ہزار میگاواٹ بجلی بنتی نندی پور پاور پلانٹ بند پڑا ہے ایک قرارداد منظور کریں کہ تیل سے بجلی بنانے پر پابندی لگائے جائے۔ سندھ میں 3ہزار کوئلے سے اور ہاہیڈرل سے بجلی سندھ میں بن رہی ہے۔ پیسے ایسے منصوبوں پر لگائے جائیں جہاں سے پیسے آئیں سڑکوں سے پیسے نہیں آتے ہیں۔واپڈادو روپے والی بجلی دے رہی ہے باقی سکیمیں بند کرو ہاہیڈرل کو چلاؤ۔
Load/Hide Comments



