اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان میں فوجی عدالتوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والا نو رکنی لارجر بنچ دو ججز کے اعتراض کے بعد ٹوٹ گیا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل سے متعلق کیس کا فیصلہ ہونے تک پرانے اختیار کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے تشکیل کردہ بنچ میں بیٹھنے سے انکار، کہا کہ میں اس بنچ کو عدالت نہیں مانتا، ہم یہاں حلف لیکر بیٹھے ہیں میرا یہ اعتراض نیا نہیں گزشتہ کافی عرصے سے اس طرف معزز ججز کی توجہ مبذول کرانا چاہتا تھا، اس بابت نوٹ بھی لکھا مگر اگنور کر دیا گیا۔ جب تک سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل سے متعلق معاملہ کا فیصلہ نہیں ہو جاتا چیف جسٹس کی طرف سے تشکیل کردہ بنچ میں بیٹھنے سے معذرت خواہ ہوں۔ سردار طارق مسعود نے کہا کہ وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے باتوں سے اتفاق کرتے ہیں۔ اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ کے استدعا پر چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ چونکہ بنچ کے دو فاضل ججز نے اعتراض اٹھایا ہے اس لئے مناسب نہیں کہ یہ بنچ کیس سنے، آپ بیٹھیں آپ کے کیس سے متعلق فیصلہ کر لیتے ہیں۔بعد ازاں لارجر بنچ کونسلز کی بات سنے بغیر آٹھ کر چلا گیا۔ جمعرات کو دن بارہ بجے سے چند منٹ قبل چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں نو رکنی لارجر بنچ نو مئی واقعات کے بعد قائم ہونے والی فوجی عدالتوں سے متعلق چار مختلف درخواستوں کی سماعت کیلئے کمرہ عدالت میں پہنچا تو نامزد چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں، روسٹرم پر کھڑے وکلاء میں سے اعتزاز احسن کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا ہمیں بہت خوشی ہے اس پر بات کرنے دیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی خوشی باہر جا کر منائیں یہاں سیاسی باتیں نہ کریں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس موقع پر کہا کہ میں نے حلف اٹھایا ہے کہ میں آئین اور قانون کے مطابق اپنی زمہ داریاں نبھاؤں گا، عدالتوں کو سماعت کا دائرہ اختیار ائین کی شق 175 ٹو دیتا ہے،قوانین میں ایک قانون پریکٹس اینڈ پروسیجر بھی ہے،اس قانون کے مطابق بنچ کی تشکیل ایک کمیٹی سے ہونی ہے،کل شام مجھے کاز لسٹ دیکھ کر تعجب ہوا،اس قانون کو بل کی سطح پر ہی روک دیا گیا، اس قانون کا کیوں کہ فیصلہ نہیں ہوا اس پر رائے نہیں دونگا،اس سے پہلے ایک تین رکنی بنچ جس کی صدرات میں کررہا تھا 5 مارچ کو از خود نوٹس کیس کی سماعت کی، 5 مارچ والے فیصلے کو 31 مارچ کو جاری ایک سرکولر کے زریعے فیصلے کو ختم کردیا جاتا ہے، عدالت کے فیصلے کو رجسٹرار کی جانب سے نظر انداز کرنے کا کہا گیا یہ عدالت کے ایک فیصلے کی وقعت ہے،پہلیاس سرکولر کی تصدیق کی جاتی ہے پھر اس سرکولر کو واپس لیا جاتا ہے،غلطی ہر انسان سے ہو سکتی ہے ہم انسان ہیں، مجھ سے بھی غلطی ہوسکتی ہے اس پر 8 اپریل کو میں نے نوٹ لکھا جو ویب سائیٹ پر لگا پھر ہٹا دیا گیا،معزز چیف جسٹس نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا چیمبر ورک کرنا چاھتا ہوں، میں نے حالات کو دیکھ کر چیمبر ورک شروع کیا،جب مجھ سے چیمبر ورک کے بارے میں پوچھا گیاتو پانچ صفحات کا نوٹ لکھ کر بھیجا، وضاحت اس لئے دے رہا ہوں کہ چہ مگوئیاں شروع ہوجاتی ہے،میرے دوست یقینا مجھ سے قابل ہیں لیکن میں اپنے ایمان پر فیصلہ کروں گا،سوال یہ بھی ہے کہ اس چھ ممبر بنچ میں اگر نظر ثانی تھی تو مرکزی کیس کا کوئی جج شامل کیوں نہیں تھا، میرے چیمبر ورک کرنیکا جواب چیف جسٹس بہتر دے سکتے ہیں۔ یہ میں نے اپنے نوٹ میں لکھا،میں اپنا نوٹ اپنے معزز ججز سے شیئر کرتا ہوں،اس دوران حکومت نے انکوائری کمیشن بنایا جس کا مجھ سربراہ بنایا گیا،پھر اس کمیشن کو عدالت نے کام کرنے سے روک دیا، مجھے جو درخواست رات گئے موصول ہوئی اس میں عمران خان نیازی کی بھی درخواست تھی،عمران خان کی درخواست پر اعتراض لگایا اور انہوں نے پہلے درخواست دائر کی تھی،آج کاز لسٹ میں آخر میں آنے والی درخواست سب سے پہلے مقرر کر دی گئی،میں اس بنچ کو “بنچ” تصور نہیں کرتا،میں کیس سننے سے معذرت نہیں کر رہا،میں اس وقت تک کسی بنچ میں نہیں بیٹھ سکتا جب تک پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کا فیصلہ نہیں ہوتا، میں معزرت چاھتا ہوں ججز کو زحمت دی،میں اس بنچ سے اٹھ ریا ہوں۔ لیکن سماعت سے انکار نہیں کررہا، میں اس پر مزید بحث نہیں سن سکتا،جسٹس سردار طارق مسعود نے اس موقع پر کہا کہ میں قاضی فائز عیسی کے ساتھ اتفاق کرتا ہوں،ہم نے ان درخواستوں پر فیصلہ کرینگے، پہلے ان درخوستوں کو سنا جائے، اگر اس کیس میں فیصلہ حق میں آتا ہے تواس کیس میں اپیل اٹھ جج کیسے سنیں گے۔ وکیل سردار لطیف کھوسہ نے اس موقع پر کہا کہ یہ معاملہ 25 کروڑ عوام کا ہے۔اعتزاز احسن نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے استدعا کہ کہ یہ اہم کیس ہے اس کو سن لیا جانا چاہیئے۔جسٹس طارق مسعود نے کہا کہ جب عوام کا معاملہ آئیگا دیکھ لیں گے اس سے پہلے کیا کچھ نہیں ہوا تب تو کبھی عوام کے حقوق کی بات نہیں کی گئی۔چیف جسٹس آف پاکستان نے اس موقع پر وکلاء کو سننا چاہا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ وہ وکلاء کی بحث نہیں سن سکتے۔ جس پر چیف جسٹس نے وکلاء کو بیٹھنے کا کہتے عدالتی کاروائی برخاست کر دی۔
Load/Hide Comments



