جماعت اسلامی ہماری بلاوجہ مخالفت کررہی ہے،شکست تسلیم کر کے مل کر کام کرے، شرجیل میمن

کراچی(آن لائن)وزیرِ اطلاعات و ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ سندھ شرجیل انعام میمن نے آرکائیوز کمپلیکس کلفٹن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ اختتام پذیر ہونے کو ہے حلف برداری کے بعد کراچی کی بلدیاتی انتظامیہ فعال ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی واضح ہدایات ہیں کہ عوام کی بہترین خدمت کی جائے۔انہوں نے کہا کہ ایک جماعت ہماری بلاوجہ مخالفت کررہی ہے کیونکہ فتنہ فساد ان کی تاریخ ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کو چاہئے کہ شکست کو تسلیم کرے اور مل کرکام کرے۔انہوں نے واضح کیا کہ ہماری پارٹی کی لیڈر شپ کی ہدایات ہیں کہ سب کے ساتھ مل کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کی وجہ سے آپ کو نشستیں ملیں ورنہ آپ بہت بری طرح ہارتے،بعدازاں پولیو مہم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیو جیسے موذی مرض سے اپنے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لئے پولیو کے قطرے لازماً پلوائیں۔انہوں نے میڈیا سے درخواست کی کہ پولیو مہم میں حکومت کا بھر پور ساتھ دے اور عوام کو پولیو کے قطروں کی افادیت سے آگاہ کریں۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت پولیو کے حوالے سے آگاہی مہم فعال طریقے سے چلاتی رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا سے گذارش ہے کہ پولیو پر ٹاک شوز اور آگاہی مہم کو تیز کریں اور اس پر پروگرام بڑھائیں تاکہ لوگ پولیو مہم میں بھرپور حصہ لیں۔انہوں نے کہا کہ ایک خبر دیکھی ہے کہ وزیر اعظم نے سندھ کے سیلاب زدگان کے لئے 25 ارب روپے خصوصی فنڈز میں دیئے ہیں اگر یہ خبر درست ہے تو ہم اس کا بھرپور خیر مقدم کرتے ہیں۔وزیرِ اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ہمارے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ہر فورم پر سیلاب زدگان کی مدد کے لئے آواز بلند کی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے گذارش ہے کہ سندھ کے دوروں میں سندھ کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی ہدایات دیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز احسن اقبال نے جو بات کی ہے اس پر عرض ہے کہ احسن اقبال ہمارے لئے قابلِ احترام ہیں۔ لیکن یہ نامناسب ہے کہ جو بات صرف اجلاس کے اندر تک محدود رہنی چاہئے اسے اجلاس کے باہر بیان کیا جائے۔ اس طرح کی بات نامناسب ہے۔وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سیلاب کے موقع پر وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کے سندھ کے دوروں کو سندھ حکومت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دور میں سندھ کے ساتھ سب سے زیادہ نانصافی ہوئی۔لہذا جب پی ڈی ایم کی حکومت بنی تو ہم نے وزیر اعظم پاکستان سے اس زیادتی کے ازالے کی درخواست کی۔ چنانچہ سندھ کی آبپاشی اور سڑکوں کی اسکیموں کو شامل کرنے کا وعدہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ سندھ سب سے زیادہ ٹیکس اور گیس فراہم کرتا ہے۔تھر کول سے بجلی ہم مہیا کررہے ہیں لیکن سندھ سے کئے گئے وعدوں کا ایفا نہ ہونا انصاف کے مطابق نہیں ہے۔ سندھ کے مطالبے پر آبپاشی اور روڈ سیکٹر کی اسکیمیں رکھیں گئیں لیکن پیسے نہیں رکھے گئے۔لیکن اگر میڈیا کے ذریعے ملنے والی سندھ کے سیلاب زدگان کی امدادی رقم کی خبر درست ہے تو ہم وزیرِ اعظم اور وفاقی حکومت کے شکر گذار ہیں مگر یہ خبر اگر پہلے ہمیں دی جاتی تو زیادہ بہتر ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ہماری لیڈر شپ الائنس کو اچھی طرح سے چلانا چاہتی ہے۔لیکن دوسرے اور تیسرے مرحلے کی لیڈر شپ سے تیز بیانات آنا مناسب نہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری لیڈر شپ کا وژن الائنس میں ساتھ چلنے کاہے۔لیکن اگر شکایت ہوگی تو قاعدے میں رہ کر شکایت کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں سنی سنائی بات پر بغیر تصدیق کے بات نہیں کروں گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری ایم کیو ایم، مسلم لیگ سمیت سب جماعتوں سے دوستی ہے جماعت اسلامی سے بھی ہماری کوئی لڑائی نہیں ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سراج الحق ایک معزز بزرگ ہیں۔ پیپلز پارٹی کسی قسم کی زور زبردستی پر یقین نہیں رکھتی۔سندھ حکومت تمام ٹاؤنز کو مکمل اختیارات دے گی۔انہوں نے کہا کہ خدمت کاموقع سب کو دیا جائے گا۔سب مل کر شہر کی خدمت کریں۔انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کبھی کسی جمہوری دور میں اقتدار میں نہیں آئی۔ سراج الحق مشرف دور میں صوبے کے وزیرِ خزانہ تھے وہ بھی جمہوری دور نہیں تھا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات میں ہم کیا تبصرہ کریں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو قانون کے مطابق اسمبلی اجلاس میں لایا جائے گا.