پبلک اکاونٹس کمیٹی نے ڈسکوز ملازمین کو ملنے والے مفت بجلی یونٹس ختم کرنے کے احکامات جاری کردئیے

اسلام آباد(آن لائن) پبلک اکاونٹس کمیٹی نے ڈسکوز ملازمین کو ملنے والے مفت بجلی یونٹس ختم کرنے کے احکامات جاری کردئیے،کمیٹی نے توانائی کے گردشی قرضوں میں ہوشربا اضافے اور نقصانات کا نوٹس لیتے ہوئے ڈسکوز کے بورڈ ممبران کی تفصیلات اور مراعات سمیت تمام تفصیلات طلب کر لیں۔کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا، اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ سیکرٹری توانائی سمیت ڈسکوز کے سی ای اوز آڈٹ اور دیگر حکام نے شرکت کی، اجلاس میں وزارت توانائی کے مالی سال 2019/20کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا، اس موقع پر سیکرٹری توانائی نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک کو گذشتہ سال کے دوران توانائی کے شعبے میں 1کھرب روپے سے زائد نقصان اٹھانا پڑا توانائی کا سسٹم پورے ملک کو نقصان پہنچا رہا ہے گذشتہ سال مجموعی طور پر 2کھرب روپے سے زائد اخراجات ہوئے جس میں 800ارب روپے غائب ہوچکے ہیں، اس وقت توانائی سیکٹر ملک میں سب سے بڑا مسئلہ ہے ہم جس قیمت پر بجلی بناتے ہیں وہ قیمت صارفین سے وصول نہیں کرتے ہیں جس میں ہماری اپنی نالائقی بھی شامل ہے ہمارے پاس مجموعی طو رپر 2کروڑ 80لاکھ بجلی صارفین ہیں جس میں ۱یک کروڑ 80لاکھ صارفین حکومت سے بجلی کی مد میں سبسڈی لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کوئی بھی کاروبار نقصان پر چلانے سے زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا ہے اس وقت ڈسکوزکے بورڈ میں موجود ممبران صرف فوائد حاصل کررہے ہیں اور جس مقصد کیلئے ان کو تعینات کیا گیا ہے اس کو پورا نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی وزیر تمام ڈسکوز کے بورڈ ز کو دیکھ رہے ہیں اور اس میں شعبے کے ماہرین کو تعینات کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ایسے بھی ممبران موجود ہیں جو کئی کئی ڈسکوز کے بورڈ میں شامل ہیں اور وہاں سے مراعات لے رہے ہیں۔ اس موقع پر چیرمین کمیٹی نے کہاکہ پورے ملک میں عوام کو لوڈ شیڈنگ کے مسائل درپیش ہیں اور جگہ جگہ احتجاج ہورہے ہیں اس کمیٹی کا مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میری خواہش ہے کہ پی اے سی کی کارروائی براہ راست نشر کی جائے تاکہ عوام کو اپنے نمائندوں سمیت اداروں کی کارکردگی کا پتہ چل سکے۔ انہوں نے تمام ڈسکوز سمیت واپڈا ملازمین کو ملنے والے بجلی کے فری یونٹس فوری طور پر ختم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اس مقصد کیلئے مختص فنڈز ان کی تنخواہوں میں ضم کرنے کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے وزارت توانائی کو ڈسکوز بورڈ کے ممبران کی مکمل تفصیلات اور ان کو ملنے و الی مراعات کے حوالے سے رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔