روس سے سستے تیل اور گیس کا حصول پاکستان کی معاشی ضرورت ہے، محمود مولوی

کراچی (آن لائن) رکن قومی اسمبلی محمود مولوی نے کہا ہے کہ تمام شرائط اور مطالبات پورے ہونے کے باوجود آئی ایم ایف کی جانب سے معاہدے میں توسیع سے گریز عالمی ادارے کی جانب سے پاکستان کو بلیک میل کرنے کے مترادف ہے، ایسا لگتا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کو مغربی بلاک سے دوری اور چین و روس سے بڑھتی قربت کی سیاسی سزا دینے پر تلا ہوا ہے، محمود مولوی نے کہا کہ اپنی معیشت کی بحالی اور ترقی اور خوشحالی کیلئے دنیا کے کسی بھی ملک سے ہاتھ ملانا اور اپنے مفادات کا تحفظ کرنا پاکستان کا حق ہے۔ محمود مولوی نے کہا کہ سی پیک کے ساتھ ساتھ روس سے سستے تیل اور گیس کا حصول پاکستان کی معاشی ضرورت ہے، اس پر کسی تیسرے ملک اور عالمی ادارے کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، حکومت اس سلسلے میں کسی دبا کو قبول نہ کرے۔ محمود مولوی نے کہا کہ معاشی بحران کی وجہ سے پاکستان کے عوام گوناگوں مسائل سے دوچار ہیں، روس سے آنے والے سستے تیل سے بجا طور پر عوام نے ریلیف کی امیدیں وابستہ کرلی ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت قومی ضروریات کے مطابق روس سے سستے تیل کی درآمد کے حجم میں اضافے کے ساتھ فوری طور پر اس کا فائدہ عوام کو منتقل کرنے کا میکنزم بھی طے کرے اور سولہ جون سے ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح کمی کرے تاکہ عوام شدید ترین مہنگائی کے بوجھ سے کچھ ریلیف محسوس کریں.