چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی و رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے بجٹ2023-24 کو مسترد کر دیا

اسلام آبا د(آن لائن)چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی و رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے بجٹ2023-24 کو مسترد کر دیا اور کہا کہ اس بجٹ میں غریب عوام کیلئے کیا رکھا گیا ہے،کسانوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے،اس بجٹ میں ایک ریڑھی والے کو کیا فائدہ ہوا ہے،یہاں دو پاکستان ہیں،ایک غریب کا پاکستان ہے اور ایک امیر کا پاکستان ہے،مہمند ڈیم اور بلین منصوبہ میں اربوں کی کرپشن ہوئی ہے،جو غریب کا پیسہ کھائے گا وہ مسلمان نہیں ہو سکتا،کرپشن کرنیوالوں پی اے سی نہیں چھوڑے گی۔منگل کے روز ایوان میں بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی و چیئرمین پی اے سی نورعالم خان نے کہاکہ مجھے حیرانی ہوئی کہ بجٹ کو اچھا کہا گیا بجٹ کو کس طرح اچھا کہا جاسکتا ہے،ایوان میں کوئی وزیر نہیں وزیر خزانہ بھی نہیں ہے۔وزیر جب کرسی پر ہوتا ہے تو ان کو ہر چیز اچھی لگتی ہے اس بجٹ میں غریب بندے کے لیے کیا ہے؟ کسان کو کچھ نہیں دیا ہے،یوریا کے فیکٹریوں کو فائدہ دیا ہے۔کبھی غریب کے لئے سوچا ہے جو گاؤں میں رہتے ہیں جو ریڑھی لگاتا ہے۔عام عوام کی بجلی نہیں ہے گیس نہیں ہے۔ 761ارب روپے پنشن میں چلے جاتے ہیں۔ تمباکو انڈسٹری والے اور کار مینوفیکچررز ٹیکس نہیں دیتے ہیں۔ زرمبادلہ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک سے آتے ہیں امریکہ کینڈا اور برطانیہ سے زرمبادلہ نہیں آتا ہے عرب میں کام کرنے والے مزدور اصل ہیروز ہیں ان کو سہولیات دی جائیں۔یہاں پر کوئی شفافیت نہیں یے بھاشا ڈیم کا میں نے ریکارڈ مانگا مگر نہیں دیا۔غریب آدمی پر ٹیکس لگاتے ہیں اور امیر کی تنخواہ میں 300فیصد اضافہ کرتے ہیں۔ مہنگائی کے خلاف بات کرتا ہوں آپ کی حکومت نے ایک سال میں کیا کیا بجلی اور گیس نہیں ہے۔ 18ویں ترمیم میں پارٹی سربراہ کو خدا بنادیاہے اس پر مجھے گلہ ہے۔ 9مئی کے واقعات میں ملوث افراد کا اوپن ٹرائل ہونا چاہئے 9مئی کو بغاوت کی گئی۔ ہمارے فوجی دہشت گردی کے خلاف لڑرہے ہیں آپ کون ہوتے ہیں ہمارے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے والے، دو پاکستان ہیں ایک غریب کا پاکستان ہے اور ایک امیر کا پاکستان ہے، لوگ مجھے اسمبلی سے نکالنا چاہتے تھے،اللہ نے ان کو نکال دیا ہے۔مہمند ڈیم میں کرپشن ہوئی ہے اس کی رپورٹ نہیں دی جارہی ہے، بلین ٹری منصوبہ میں کرپشن ہوئی ہے.