ملک کا55فیصد بجٹ سود میں چلا جاتا ہے،ترقیاتی بجٹ بھی قرضوں پر چل رہا ہے، شاہد خاقان عباسی

حیدرآباد(آن لائن) سابق وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک کا55فیصد بجٹ سود میں چلا جاتا ہے اور ترقیاتی بجٹ بھی قرضوں پر چل رہا ہے ملک کی معاشی بدحالی اور سیاسی بحران کے ذمہ دار من حیث القوام سب ہی ہیں تاہم اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ ہمیں سنجیدگی سے تلا ش کرنا ہو گا یہ انگریز کا دیا ہوا نظام ہے اسے بدلنا ہو گا لیکن ہم اسے دل سے لگائے ہو ئے ہیں جس طرح ایک آمر کا بنایانیب کا قانون ہم نے اپنا لیا ہے وہ حیدرآباد میں ری امیجنگ پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کررہے تھے جس سے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور دیگر نے بھی خطاب کیا شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ گذشتہ دنوں قومی بجٹ پیش ہوا تو مجھ سے ٹی وی اینکرز نے تبصرہ مانگا لیکن میں کیا تبصرہ کرتا ہماری پوری معیشت قرضوں اور سو د پر چل رہی ہے ملک کا55فیصد بجٹ سود میں دیا جاتا ہے تو پیچھے کیا بچے گا اور ترقیاتی اور دفاعی بجٹ بھی قرضوں پر چل رہا ہے قرض اتارنے کے لیے بھی ہمیں قرض لینا پڑتا ہے وفاق خود مجبور و لاچاراور کنگال ہے تو وہ صوبوں کا کیا دے گا ملک کی معاشی بدحالی اور سیاسی بحران کے ذمہ دار من حیث القوام سب ہی ہیں 75سال میں ہم بنیادی فکر و سوچ کا ازالہ بھی نہیں کرسکے ہیں تاہم اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ ہمیں سنجیدگی سے تلا ش کرنا ہو گا انہوں نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کا ازالہ کریں ملک انتہائی نازک دور سے گزررہا ہے اب یہ نظام اس ملک کو چلانے کے قابل نہیں رہا ہے اور کسی کو فکر نہیں کہ ملک کہاں کھڑا ہے انہوں نے کہاکہ آج سیمینار میں کھل کر باتیں ہو ئیں ہیں لیکن میں واضح کردوں کہ ری امیجنگ پاکستان ووٹ لینے کی کوشش نہیں ہے یہ اس لیے کہ ہم ملک کے نظام پر بات کریں کیونکہ ہم اسکا حصہ ہیں انہوں نے کہاکہ صورتحال کی ذمہ دار عوام بھی ہے جب ان سے کوئی لینڈ کروزر میں بیٹھ کر امیدوار ووٹ مانگنے آتا ہے تو وہ اس سے کیوں نہیں پوچھتے کہ یہ کہاں سے آئی ہے عوام کو اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہو گی انہوں نے کہاکہ ہم انگریز کے دیئے ہو ئے نظام پر چل رہے ہیں صوبہ کا سب سے بڑا آفیسر وفاق کا لگایا ہوا ہوتا ہے انہوں نے کہاکہ ہم انگریز کے نظام کو دل سے لگا کر بیٹھے ہیں جس طرح ایک آمر کے بنائے ہو ئے نیب کو لیکر چل رہے ہیں کسی نے پوچھا کہ نیب نے کس کا اور کتنا احتساب کیا ہے 25سال میں ملک مزید مقروض ہو گیا ہے کس نے نیب سے اس پر سوال نہیں کیا انہوں نے کہاکہ ہم جب تک ہم یکسر سو چ کو نہیں بدلیں گے حالات مزید خراب ہو نگے ہمارا کام سوچ اور حقیقت کے درمیان پل باندھنا ہے انہوں نے کہاکہ اگر صوبوں میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا تو اختیارات میں تو تقسیم کیا جاسکتا ہے انہوں نے کہاکہ کراچی میں بیٹھ کر گھوٹکی کا اسپتال کیسے چلایا جاسکتا ہے اسی طرح پنجاب12کروڑ عوام کا ایک بڑا صوبہ ہے اسے لاہورمیں بیٹھ کر کیسے چلایا جاسکتا ہے پنجاب کے خوراک کے نظام میں 30فیصد کرپشن ہے آٹا کے 20ارب کھا لیے گئے انہوں نے کہاکہ سی سی آئی میں بیٹھ کر میں نے خود تجویز دی تھی کہ گیس و بجلی کا نظام صوبوں کو دے دیا جائے اسی طرح میرے وزیر اعظم کے دور میں پہلی واٹر پالیسی بنائی گئی لیکن پھر ہمیں اس میں سے ڈیم کے لفظ کو نکلنا پڑا انہوں نے کہاکہ صوبے اور ڈیمز عوام کی رائے کے بغیر نہیں بنائے جاسکتے انہوں نے کہاکہ آج ہمارے پاس بہترین و متفقہ آئین موجود ہے لیکن بدقسمتی سے آئین و قانو ن پر عمل نہیں کیا جارہا ہے .