بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا،ٹیکسوں کی موجودہ شرح میں ردوبدل کیا جارہا ہے،وزیرخزانہ

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈارنے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال پیش کیے جانے والے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا جا رہا ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ ملک میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے۔انہوں نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں اور کاروبار میں آسانیاں لائی جائیں۔وزیرخزانہ نے بتایا کہ پہلے سے موجود ٹیکسوں کی شرح میں ردوبدل کیا جارہا ہے جس کے تحت بجٹ میں سپرٹیکس کو پراگریسو ٹیکسیشن میں تبدیل کرکے ٹیکس شرح بتدریج بڑھانے کی تجویز ہے۔کمرشل امپوٹرز کی طرف سے اشیاء کی درآمد پر ٹیکس شرح 0.50فیصد بڑھانے کی تجویز ہے۔پہلے سے جو ٹیکس شرح کم کی گئی ہے اس میں کسی اضافے کی تجویز نہیں۔کمپنیوں کی طرف سے بونس شیئرز پر ودہولڈنگ ٹیکس 10فیصد عائد کیا جارہا ہے۔بنکوں سے رقم نکلوانے والے نان فائلز پر 50ہزار روپے سے زائد کی رقم نکلوانے پر 0.6فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔غیر ملکی شہری جو پاکستان کے امیر گھرانوں میں مددگار کے طورپر کام کرتے ہیں انہیں ادا کی جانے والی تنخواہ پر سالانہ 2لاکھ روپے کی شرح سے ٹیکس عائد کیا جارہا ہے۔بنکنگ چینلز،کریڈٹ،ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے غیر ملکی کرنسی کے بھاؤ کی حوصلہ شکنی کیلئے فائلر پر ودہولڈنگ ٹیکس کی موجودہ شرح 1فیصد سے بڑھا کر5فیصد جبکہ نان فائلر پر 10فیصد ہوگی۔لیدر ٹیکسٹائل کی مصنوعات پر جی ایس ٹی شرح12فیصد سے 15فیصد کی جارہی ہے۔پرانی اور استعمال شدہ 1300سی سی سے اوپر تک کی ایشیائی ساختہ گاڑیوں کے ڈیوٹی اور ٹیکسز کی کیپنگ ختم کیا جارہا ہے۔مقامی سطح پر تیار کردہ شیشے کی مختلف اقسام کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی15فیصد سے30فیصد کی جارہی ہے۔اسلام آباد میں ریسٹورنٹ سروسز پر کریڈٹ کارڈ کے ذریعے رقم کی ادائیگی پر ٹیکس کی شرح15فیصد سے کم کے5فیصد کی جارہی ہے.