لاہور (آن لائن) تحریک لبیک پاکستان کا ملک کے اندر حالیہ گستاخیوں،بڑھتی ہوئی مہنگائی،بے روزگاری، لاقانونیت اور پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنو عات کی قیمتوں کو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچانے کے خلاف حافظ سعد حسین رضوی کی قیادت میں کراچی سے شروع ہونے والا پاکستان بچاؤ مارچ کے آخری مرحلے کا بھی لاہور جامع مسجد رحمتہ للعالمین سے آغاز ہوگیا، مارچ میں کارکنان اور شہریوں کی بڑی تعداد موجود، پاکستان بچاؤ مارچ کی قیادت امیر تحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی، نائب امیر پیر سید ظہیر الحسن شاہ، سرپراست اعلیٰ قاضی محمود اعوان، علامہ غلام غوث بغدادی، ڈاکٹر محمد شفیق امینی، مفتی محمد عمیر الازھری، علامہ غلام غوث بغدادی، مفتی محمد وزیر احمد رضوی، صاحبزادہ انس حسین رضوی، علامہ فاروق الحسن قادری سمیت دیگر مرکزی مجلس شوریٰ کے اراکین کررہے ہیں۔ لاہور میں روانگی سے قبل امیر تحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حصین رضوی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان کا پاکستان بچاؤ مارچ جو کہ کراچی سے شروع ہوا وہ اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے،اس وقت پاکستان کی عوام جن مشکلات سے گزر رہی ہے ان مشکلات کو ختم کرنے کے لئے ٹی ایل پی کا مارچ اسلام آباد کے لئے روانہ ہوا ہے،ٹی ایل پی کا اولین مقصد ناموسِ رسالت کا دفاع کرنا اور ختمِ نبوت ﷺ پر پہرہ دینا ہے، ٹی ایل پی کا منشور اسلام، پاکستان اور عوام ہے،انہیں مقاصد کے حصول کے لئے یہ مارچ اسلام آباد جارہا ہے،پاکستان میں جو اس وقت دینی، معاشی اور سیاسی عدم استحکام ہے اس کو استحکام دلوانے کے لئے ٹی ایل پی یہ مارچ کررہی ہے، انہوں نے کہا کہ جس کو معیشت ٹھیک کرنے بلایا تھا اس سے اب پوچھا جائے کہ معیشت اب تک بہتر کیوں نہیں ہوسکی، ہمارے ساتھ بیٹھیں پھر ہم ان کو بتائیں گے کہ معیشت کیسے ٹھیک ہوگی،بجٹ اگر عوام دوست نہ ہوا تو ہم بجٹ کو وائٹ پیپر کی صورت میں جاری کرینگے،ہمیں اکنامکس، ریلوے، جوڈیشری، ایگریکلچر میں ریفامز کی اشدضرورت ہے،جو انگریز کرکے گئے تھے 76 سال پہلے سب کچھ ویسا ہی ہے،76 سالوں سے ملک پر قابض حکمرانوں نے کچھ بھی ٹھیک نہیں کیا، سیا سی گٹھ جوڑ کے حوالے سے صحا فی کے سوال پر حافظ سعد رضوی کا کہنا تھا کہ جن کے اپنے کارناموں کا وزن ان کے اپنے گھٹنے نہیں اٹھا سکے کیا وہ قوم کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا سکیں گے،100 کے قریب لوگو ں کو جمع کرکے پاکستان کو ایک اور تجربے کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے، اس کا خمیازہ قوم کو ہی بھگتنا پڑے گا، حافظ سعد رضوی کا کہنا تھا کہ ملک سے جابرانہ، سر دارانہ، جاگیر دارانہ اور ظالمانہ نظام کاخاتمہ ہونا چاہیے،جو بلوچ، سندھی اور پٹھان ہمارے ساتھ تھے وہ آج ہم سے ناراض ہیں اس کی کیا وجہ ہے کسی نے اس بات کو کبھی کوئی اہمیت نہیں دی، بجٹ میں قوم کو ریلیف دیا جائے،حکومتی بجٹ کے بعد وائٹ پیپر جاری کرینگے،76 سالوں سے ملک میں انگریز کا دیا نظام چل رہا ہے،انگریز کے دیے ہوئے نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے،پاکستان کی قومی زبان اردو کو سرکاری طور پر نافذ کیا جائے،اردو کو نظام کا حصہ بنایا جائے،ہمیں ہر ادارے کو بہتر کرنے اور ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، ایک اور صحافی نے سوال کیا آپ کا لہجہ نرم ہوگیا ہے،ہمارا لہجہ پہلے بھی نرم ہے اور آئندہ بھی نرم رہے گا،گستاخان رسول ﷺ کے لئے اور پاکستان کے غداروں کے خلاف ہمارا لہجہ پہلے بھی گرم تھا آئندہ بھی گرم رہے گا،ملکِ خدادِ پاکستان میں سے 295C کے قانون کوکبھی ختم نہیں کیا جاسکتا،یہ آئین اور قانون کا حصہ ہے،ہمارے مطالبے میں ایک مطالبہ یہ بھی کہ پاکستان میں کاؤنٹر بلاسفہمی ڈیپارٹمنٹ بننا چائیے جو کہ گستاخوں کے خلاف بروقت کاروائی کر سکے،295Cکے مجرموں کا اسپیڈی ٹرائل ہونا چائیے تاکہ ان کوکرار واقعی سزا دی جاسکے، حافظ سعد رضوی ہمارے بہت سارے مطالبات ہیں جس میں ناموسِ رسالت ﷺ کا سب سے پہلا مطالبہ ہے،حالیہ گستاخیوں کے خلاف فی الفور عملی اقدامات کئے جائیں، حافظ سعد رضوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت قوم کی بیٹی عافیہ کو واپس لانے کے لئے عملی اقدامات کرے اور فل الفور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان واپس لائے.
Load/Hide Comments



