کراچی(آن لائن)گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ کراچی میں شہریوں کے دیرینہ مسائل حل نہ ہونا بڑا المیہ ہے، ارباب اختیار سے سوال ہے کہ ملکی معیشت کے انجن کراچی کو کیوں مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے، کراچی کے لوگوں کو کسی سیاست جماعت کے مستقبل سے کچھ لینا دینا نہیں کراچی میں کے ایم سی کونسل کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے اب یہ آنے والے میئر پر منحصر ہے کہ وہ اسے کتنی جلد مکمل کراتا ہے، سات ماہ میں ایک بار بھی ایڈمنسٹریٹر کراچی سے کسی ذاتی کام کے لئے نہیں کہا، میڈیا میرا آخری سہارا ہے کہ ان باتوں کو اٹھائے اور آگے بڑھائے، بحیثیت گورنر کراچی میں رہنے والوں کے مسائل اجاگر کرتا رہوں گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز باغ کراچی راشد منہاس روڈ پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کونسل کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ایڈمنسٹریٹر کراچی ڈاکٹر سید سیف الرحمن، میونسپل کمشنر سید شجاعت حسین، ڈائریکٹر جنرل پارکس جنید اللہ خان، سینئر ڈائریکٹر میڈیا مینجمنٹ علی حسن ساجد اور دیگر افسران کے علاوہ شہریوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی، قبل ازیں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے ایڈمنسٹریٹر کراچی ڈاکٹر سید سیف الرحمن کراچی کے شہریوں اور کے ایم سی کے افسران کے ہمراہ باغ کراچی میں سٹی کونسل کی نئی عمارت کی تختی کی نقاب کشائی کی اور سنگ بنیاد رکھا، گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ کراچی ساڑھے تین کروڑ آبادی کا شہر ہے مگر اسے اب تک ڈیڑھ کروڑ ہی گنا گیا ہے اور اسی حساب سے فنڈز ملتے ہیں، اگر آئندہ کبھی درست مردم شماری ہوئی تو سٹی کونسل کے ارکان کی تعداد بھی اور زیادہ بڑھے گی اس لئے نئی عمارت میں 600 تا800 نشستوں کی گنجائش ہونی چاہئے، کونسل ہال کی نئی عمارت کے ایم سی کی موجودہ تاریخی عمارت کی طرح پرشکوہ بنائی جائے جس میں بہترین پریس گیلری بھی دستیاب ہو، انہوں نے کہا کہ آج کی طرح آئندہ کراچی میں جتنی بھی سرکاری عمارتوں کا افتتاح ہو ان میں اہلیان کراچی کو ضرور شامل کیا جائے اور انہی سے فیتے کٹوائے جائیں، گورنر سندھ نے کہا کہ کراچی میں مسائل کی بہتات ہے، سڑکیں اور راستے ٹوٹے پڑے ہیں، شہر مختلف مافیاز کے قبضے میں جکڑا ہوا ہے، گزشتہ سات ماہ کے دوران ایڈمنسٹریٹر کراچی ڈاکٹر سید سیف الرحمن جیسے ایماندار آدمی کو بھی شہر کی ترقی کے لئے پیسے نہیں دیئے گئے تو آخر کس کو دیں گے، باغ کراچی جو پہلے الٰہ دین پارک کہلاتا تھا یہاں قائم تجاوزات کو بہت جدوجہد کے بعد خالی کرایا اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے ذریعے ایک بہترین پارک بنانے کے معاملات طے کئے، گورنر ہاؤس میں آئی ٹی پروگرام اس لئے شروع کیا تاکہ ہمارے نوجوانوں کا مستقبل بہتر ہوسکے، بغیر وسائل کے جو کرسکتا تھا کر رہا ہوں، شہر کے مخیر حضرات کا تعاون مجھے حاصل ہے، خوشحالی تبھی آئے گی جب ہم لوگوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کریں گے.
Load/Hide Comments



