وزیر خزانہ اسحاق ڈار آج (جمعرات) کواقتصادی سروے پیش کریں گے

اسلام آباد(آن لائن) رواں مالی سال 2022.23 کی معاشی کارکردگی کے حوالے سے اقتصادی سروے آج جمعرات کو جاری کیا جارہا ہے سیلاب اور مشکل معاشی صورتحال کی بناء پر حکومت اکثر اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔تفصیل کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اپنی معاشی ٹیم کے ساتھ رواں مالی سال2022-23کا اقتصادی سروے آج جمعرات کو ساڑھے چار بجے پیش کریں گے،دستیاب دستاویز کے مطابق رواں مالی سال ملکی معیشت کو سیلاب جیسے قدرتی آفات کا سامنا رہا،سیلاب اور سیاسی عدم استحکام کے باعث معاشی گروتھ 0.3 تک ریکارڈ ہوئی، روس یوکرین جنگ کے باعث عالمی سطح پکموڈیٹی پرائس میں اضافہ ریکارڈ ہوا،کموڈیٹی پرائس میں اضافہ کے باعث مہنگائی کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا،رواں مالی سال جولائی سے مارچ مہنگائی کی شرح 29 فیصد تک ریکارڈ ہوئی، رواں مالی سال جی ڈی پی کا حجم 84 ہزار 6 سو ارب سے زائد ریکارڈ کیا گیا، گزشتہ مالی سال زراعت کے شعبے کی گروتھ 4.40 فیصد ریکارڈ ہوئی تھی،رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 1.55 فیصد ریکارڈ کی گئی،رواں مالی سال کے دوران لائیو اسٹاک کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، گزشتہ مالی سال کے دوران لائیو اسٹاک کی شرح نمو 3.26 فیصد رہی تھی،جنگلات کی شرح نمو 3.9 فیصد، ماہی گیری کی شرح نمو 1.4 فیصد رہی،معدنیات کے شعبے کی شرح نمو منفی 4.4 فیصد، مینوفیکچرنگ کی گروتھ منفی 3.9 فیصد رہی،بڑے صنعتی شعبے کی شرح نمو منفی 7.9 فیصد، تعمیرات کے شعبے کی گروتھ منفی 5.5 فیصد رہی،انڈسٹری سیکٹر کی شرح نمو 2.9 فیصد، خدمات کی شرح نمو 0.85 فیصد رہی، رواں مالی سال کے دوران برآمدات کا متعین ہدف بھی نہ حاصل ہو سکا، رواں مالی سال جولائی سے مئی 25 ارب 36 کروڑ ڈالر کی برآمدات رہی، اہم فصلوں کی پیداوار کی گروتھ منفی 3.2 فیصد، کاٹن جننگ کی گروتھ منفی 23 فیصد رہی،رواں مالی سال کے دوران رئیل اسٹیٹ شعبے کی گروتھ 3.72 فیصد ریکارڈ کی گئی،رواں مالی سال کے دوران فی کس آمدن 1558 ڈالر ریکارڈ کی گئی،ملکی معیشت میں انڈسٹریل ایکٹویٹی کا حجم 17 ہزار ارب روپے سے زائد رہا،ایگریکلچر، جنگلات اور فشنگ شعبے کا مجموعی حجم 19 ہزار ارب روپے سے زائد ہے،ملکی معیشت میں سروسز کے شعبے کا حجم 43 ہزار روپے سے زائد ریکارڈ ہوا،اقتصادی سروے کے مطابق ملکی معیشت میں انڈسٹریل ایکٹویٹی 21.68 فیصد، سروسز سیکٹر 54.27 فیصد شراکت دار ہے،ملکی معیشت میں ایگریکلچر، جنگلات اور فشنگ کا شعبہ 24.05 فیصد شراکت دار ہے۔