توانائی کی بچت، وفاقی حکومت کا کاروباری مراکز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد(آن لائن) وفاقی حکومت نے توانائی کی بچت کیلئے کاروباری مراکز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ترقی کرنے کیلیے ہمیں اپنے طور طریقے بدلنا ہوں گے، معاشی بحران موجودہ حکومت کو ورثے میں ملا ،2013 سے 2018 تک معیشت کو بہتر کیا گیا اور اس کے بعد دوبارہ خراب ہوگئی،فائیو ایز میں اہم نقطہ برآمدات ہیں،حکومت کی ترجیحات ڈیجیٹل پاکستان ہے،پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے شدید چیلنجز ہیں،حکومت سیلاب سے بچنے کیلئے 4 سو ملین ڈالر کا منصوبہ بلوچستان میں شروع کر رہی ہے،انرجی کنزرویشن پالیسی پر بھی عملدرآمد کیا جائے گا،توانائی کا کوئی منصوبہ امپورٹڈ فیول پر نہیں لگایا جائے گا،توانائی بچت سے ملک کو سالانہ ایک ارب ڈالر یک بچت ہوگی، آج پی ایس ڈی پی کی مد میں 1150 کا تاریخی بجٹ منظور کروایا گیا،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لیے 55 ارب روپے سے بڑھا کر 61 ارب روپے کیے ہیں،سابقہ فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے 58 ارب روپے رکھے ہیں،خدشہ ہے اس سال کے آخر تک تیل کی قیمت 100 ڈالر تک نہ چلی جائے۔۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں رواں مالی سال بجٹ کا پورٹ فولیو پیش کیا گیا۔ اجلاس میں سندھ، پنجاب اور کے پی کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔ بلوچستان کے وزیر منصوبہ بندی شریک ہوئے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ معاشی بحران موجودہ حکومت کو ورثے میں ملا تھا 2013 میں ن لیگ نے تین ایز پر عملدرآمد کرنے کا کہا بجلی بحران ختم کیا دہشتگردی ختم کی معاشی بحران ختم کیا 2013 سے 2018 تک معیشت کو بہتر کیا گیا اور اس کے بعد معیشت دوبارہ خراب ہوگئی۔ انہوں نے کہا قومی اقتصادی کونسل نے فائیو ایز منصوبہ منظور کیا ہے فائیو ایز میں اہم نقطہ برآمدات ہیں ہمیں برآمدات 100 ارب ڈالر تک لے جانے کیلئے جلد از جلد اقدامات کرنا ہوگا انڈسٹری ایگریکلچر مائننگ اور مین پاور میں ایکسپورٹ بڑھا سکتے ہیں حکومت کی ترجیحات ڈیجیٹل پاکستان ہے ملک میں ڈیجیٹل انقلاب لیکر آنا ہے مستقبل میں مضبوط ڈیجیٹل سسٹم کے بغیر مضبوط معیشت ممکن نہیں ہوگی مضبوط ڈیجیٹل سسٹم کیلئے انٹرنیٹ فار آل کا منصوبہ کا رہے ہیں نیشنل سینٹر فار کنٹم کمپیوٹر کا پروگرام لارہے ہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہماری تیسری ترجیح کلائمیٹ کا شعبہ ہے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے شدید چیلنجز ہیں ہم نے واٹر اور فوڈ سیکورٹی پر توجہ دینا ہو گی ہم اپنی زراعت کو ٹیکنالوجی سے منسلک کریں گے ہمیں زراعت کے فروغ کیلئے گرین ریولیوشن کی ضرورت ہے چھوٹے کسانوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں گی حکومت سیلاب سے بچنے کیلئے 4 سو ملین ڈالر کا منصوبہ بلوچستان میں شروع کر رہی ہے خطرہ ہے دنیا میں تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل نہ چلی جائیں۔اجلاس میں ملک بھر میں دکانیں رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ احسن اقبال نے کہا کہ انرجی کنزرویشن پالیسی پر بھی عملدرآمد کیا جائے گا امید ہے اب صوبائی حکومتی بھی انرجی کنزرویشن پالیسی پر عملدرآمد کریں گی رات کو 12 بجے تک تجارتی مراکز کھلے رکھنا افورڈ نہیں کر سکتے توانائی کا کوئی منصوبہ امپورٹڈ فیول پر نہیں لگایا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نوجوانوں کیلئے 100 ارب سے زیادہ منصوبے لائے جا رہے ہیں نوجوانوں کو معیشت کا حصہ بنانا ہو گا 60 ہزار انٹرنشپس کا پراجیکٹ پہلے ہی لانچ کیا جا چکا ہے، اگر دو سے تین سال تک اس پالیسی پر عمل کیا جائے تو مشکلات سے نکل آئیں گے این ای سی میں آج 2035 کی آوٹ لک بھی پیش کی گئی اس پالیسی پر عمل کیا گیا تو پاکستان 2035 تک 570 ارب ڈالر کی معیشت ہو گی اگر ہم نے ٹرانسفورمیشنل راستہ اپنایا تو تک غربت کی شرح 15 فیصد تک کم ہو گی یہ سب کام کرنے کیلئے ہمیں سیاسی استحکام درکار ہو گا چوتھا ای انرجی سکیورٹی کا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں پاکستان اس سے متاثر ہوتا رہے گا این ای سی میں توانائی بچت کا منصوبہ لے کر گئے ہیں رات 8 بجے تجارتی مراکز بند کروانے ہوں گے 5واں ای ایکووٹی اینڈ امپاورمنٹ کا ہے نوجوانوں اور خواتین کے لیے مواقع پیدا کریں گے نوجوانوں کے لیے 100 ارب روپے کے مختلف منصوبے لائیں گے 7000 انٹرنشپس کا پروگرام لاؤنچ کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج پی ایس ڈی پی کی مد میں 1150 کا تاریخی بجٹ منظور کروایا گیا قومی ترقیاتی پروگرام 2709 ارب روپے خرچ ہوں گے بلوچستان اور پنجاب کا 4,4 ماہ کا ترقیاتی بجٹ منظور کیا ہے ان دونوں صوبوں کا مکمل بجٹ ملا کر 3000 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ ہو جائے گا 59 ارب ہائیر ایجوکیشن کے لیے مختص کیے جائیں گے پانی کے شعبے میں 97 ارب روپے سے بڑھا 110 ارب روپے رکھے گئے ہے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لیے 55 ارب روپے سے بڑھا کر 61 ارب روپے کیے ہیں سابقہ فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے 58 ارب روپے رکھے ہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ 2013 ء میں مسلم لیگ (ن) نے اکانومی میں بہتری، انرجی، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے جو وعدہ کیا تھا وہ 2018ء میں پورا کردیا، انرجی کا بحران ختم کیا، دہشتگردی کے خاتمہ کیا، معیشت کو بہتر کیا 2018ء کے بعد جو بحران ورثے میں ملا اس کو ختم کرنے کیلئے کام کررہے ہیں .