اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء نے کہا کہ پرویز الہی کی اربوں روپے کی کرپشن کوئی ڈھکی چھپی نہیں،محمد خان بھٹی جو کچھ کرتا رہا وہ کسی سے ڈھکاچھپا نہیں،کیا یاسمین راشد جناح ہاؤس پر حملے کے وقت وہاں موجود نہیں تھیں۔یاسمین راشد لوگوں کو جناح ہاؤس لے جانے میں ملوث ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم عدالت میں ثبوت دینے میں ناکام نہیں ہوئے۔شاہ محمود قریشی بھی9مئی کے حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔عمران کی گرفتاری روکنے کیلئے یہ عدلیہ پر بھی حملہ آور ہوتے رہے ہیں۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ انہوں نے احتجاج نہیں ریاست کے خلاف بغاوت کی ہے۔کوئی تنظیم ریاست کیخلاف بغاوت کر کے ریلیف کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جناح ہاؤس سیکورٹی پر مامور لوگوں کا خیال تھا کہ یہ احتجاج کر کے چلے جائیں گے۔جب یہ لوگ جناح ہاؤس پہنچے تو وہاں کوئی سیکیورٹی گارڈ نہیں تھا۔ عمران خان کے خلاف آرمی ایکٹ کا مقدمہ بنتا ہے۔یہ2014 سے لوگوں کو ریاست کیخلاف اکسا رہا ہے۔ حماد اظہر کا بھی مجرمانہ کردار ہے، وہ کہاں چھپا ہے سامنے آئے۔حماد اظہر کے والد کو پتہ ہے کہ وہ کہاں چھپاہے،اس لئے انہیں گرفتار کیا ہے۔2014 دھرنے کا مقصد تھا فوجی قیادت خود جائے گی یا مارشل لاء لگائے گی،2014 میں پارلیمنٹ متحد ہوئی اور دھرنا ناکام ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ نومبر کا دھرنا تعیناتی روکنے کیلئے تھا اب بھی عسکری قیادت ہدف تھی،9 مئی کو حملے کے بعد ذمے داری عسکری قیادت پر ڈدالنے کی کوشش تھی۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان مقصد یہ تھا کہ عسکری قیادت دباؤ میں آ ئے اور حکومت کیخلاف کچھ کرے،انہوں نے کہاکہ نادرا سے آرمی چیف کا ریکارڈ چرانے والے لوگ پکڑے گئے ہیں۔ان کے پاس عمران کی تصویر واضح ہے، اس کا تعلق دشمن لابیز سے ہے۔ انتخابات اپنے وقت پر اکتوبر نومبر میں ہی ہوں گے۔ایک سوال کے جواب میں کہا نواز شریف کو حفاظتی ضمانت ملنی چاہئے۔عام انتخابات میں نواز شریف پارٹی کی قیادت کریں گے۔13 اگست کو اسمبلیاں مدت مکمل کر کے تحلیل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کا جو کام ہے وہ اپنا کام ٹھیک کر رہی ہے،ہماری پارٹی میں بھی الیکشن کروانے کاوقت آگے بڑھانے کا فیصلہ نہیں ہواہے۔وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف پارٹی 2سے3حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔قانون میں رہتے ہوئے جو کرنا پڑا کریں گے۔جلاؤ گھیراؤ اور فوجی تنصیبات پر حملے کرنے والے ناک کی لکیریں بھی نکال لیں ان کو معافی نہیں مل سکتی۔ ہر قیمت پر ریاست کی رٹ قائم کریں گے۔دفاعی تنصبات پر حملے کرنے والوں کبھی معاف نہیں کریں گے۔جن لوگوں کا جرم زبانی کلامی ہے ان کو معافی دینے کی گنجائش ہے۔
Load/Hide Comments



