لاہور (آن لائن) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قانونی و داخلہ امور عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ نو مئی کے واقعات ملکی تاریخ میں اہمیت کے حامل ہیں وہ سیاہ ترین دن ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، دشمن نے ہمت نہیں کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے، مٹھی بھر شرپسندوں لوگ تھے جنہوں نے فساد برپا کیا، کرپشن کرنیوالے عمران خان کی گرفتاری پر ردعمل کررہے ہیں پاک افواج اور ریاست پر حملہ کردیں، ساٹھ ارب روپے کی کرپشن کی ہو اور افواج پر حملہ ہوجائیں، جھوٹ سنا سنا کر گونگا بہرہ اندھا کر دیا تھا کہ وہ اپنے لیڈر کیلئے سب کچھ کرنے کو تیار تھے، نیشنل کرائم ایجنسی یو کے نے منی لانڈرنگ پر پاکستان کو ساٹھ ارب روپے دیا کہ خزانے میں جمع کروانا تھا، ساٹھ ارب روپے این سی اے والا پکڑ کر سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے، شہزاد اکبر پاکستان آئیں کسی قسم کی ممانعت نہیں بھائی کی دیکھ بھال کریں گے، کھانا اور دوائیں دیں گے، شہزاد اکبر بند لفافہ کابینہ میں لہراتے ہیں وزیراعظم کو کہتے منظور کریں تو ساٹھ ارب روپے کی کرپشن منظور کروا لیا۔ ان خیالات کا اظہار معاون خصوصی نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک نوے ملین کی کرپشن پر کور کمانڈر یا کیپٹن شیر خان کی فیملی جواب دہ ہے، شہدا کے لواحقین سے قوم سیمعافی مانگوں گا، کرپٹ آدمی کیلئے فوجی تنصیات پر حملہ ہوئے، کیپٹن شیر خان کے بھائی کہتے وہ تو بہادر تھا اس کے مجسموں کو نہیں بخشا گیا، بھارتی بریگیڈیئر نے شیر خان کوبہادر قرار دیا اور اسے نشان حیدر دیا گیا، دشمن شیر خان کی تعریف کررہا ہے لیکن میں شرمندگی سے ان کی فیملی سے معافی مانگ کرآیا ہوں، چند خواتین جو جیل میں ہیں پروپیگنڈہ کررہی کیا کچھ نہیں تھا، دہشت گرد کی کوئی جنس نہیں ہوتی اس کا کسی مذہب یا مسلک سے تعلق نہیں ہوتا، صنم جاوید پاک فوج اور افسران کو گولیاں دے رہے ہیں، یہ کہتے ہیں کچھ نہیں کیا چار خواتین ڈنڈے لے کر شیر پاؤ پل سے کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ آور ہوئیں، کہتی ہاتھ اور منہ بھی توڑیں گی عالیہ حمزہ کہتی اندر گھس چکے ہیں، کیا کورکمانڈر ہاؤس ہار پہنانے جا رہے تھے، چھوٹے بچوں کو استعمال کیاجا رہا تھا کہ ماں کو یاد کررہے ہیں، دہشت گردوں کے بھی بچے ہیں کیا ان کو بھی چھوڑ دیں، ڈنڈے پکڑ کر ہاتھ اور منہ توڑنے کی بات کرنے پر کور کمانڈر ہاؤس نہ صرف خود گھسیں بلکہ لوگوں کو بھی اندر داخل کیا، پی ٹی آئی خواتین سن لیں آپ نے حملہ کیا اور جیل میں ہیں آپکو پیزہ اور چکن منچورین نہیں دے سکتے، ان خواتین کو دس دس سال ہوسکتی ہے کیونکہ قومی سلامتی کو مجروح کرنے کی کوشش کی، عمران خان کا نام لینے والا نہیں دہشت گرد کا کوئی رنگ یا نسل نہیں ہوتی وہ دہشت گرد ہی ہوتا ہے، جو حرکات کیں مراد سعید سے بزدل پوری قوم میں پیدا نہیں ہوا وہ چھپا ہوا ہے سب کو کہتا اہداف پر پہنچیں، وہ لوگ ہیں جنہوں نے دشمنوں کے ایجنڈے پر قوم کا ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی کوشش کی گارنٹی ہوگی قصور وار جیل سے باہر نہیں ہوگا، پاکستان کی قومی سلامتی پر حملہ کرنے کا کسی کو حق نہیں بچت نہیں ہوگی قومی سلامتی پہلے ہو گی، ضابطہ فوجداری کے تحت مقدمات چلائے جا رہے ہیں سولہ ورکرز ہاشر طالب علم بھی ہے، للکارا سن سکتے ہیں چلو کورکمانڈر ہاؤس کی طرف چلیں، جے آئی ٹی تشکیل دی جا چکی ہے عمران خان کے احکام پر کیا گیا۔ عمران خان اب سزا سے نہ بچ سکیں گے، عمران خان نے اعتراف کرلیا ہے ان کے لوگ حملہ کرنے والوں میں شامل ہیں، عمران خان ایک سو نوے ملین کے کرپشن میں جیل جائیں یا نہ جائیں وہ فوجی تنصیات پر حملہ کیس میں جیل ضرور جائیں گے، تاثر دیا جا رہا ہے لوگوں کو روکنے کی کوشش نہیں کی گئی اور پی ٹی آئی کارکنوں کو روکنے کی کوشش کی گئی، نیب کا اطلاق سرکاری لوگوں پر ہوتا ہے مرکزی ملزم ملکْ ریاض کو فائدہ دینے والا اور پیسے کو ہیر پھیر کرنے والا عمران خان ہے، بشری مانیکا کے ٹرسٹ ڈییڈ پر دستخط ہیں ملک ریاض مرکزی ملزم ہیں، معیشت کا جب کہتے تو بات نہیں کرتے تھے اور عمران خان میں تکبر تھا، یاسمین راشد کو چھوڑنے پر کہوں گا کہ قصور وار کوئی بھی جیل سے باہر نہیں ہوگا،عمران خان مذاکرات کی بات اس وقت کررہے جب وہ املاک پر حملہ آور ہے، عمران خان کے مذاکرات کارکنان کی رہائی پر نہیں ہوگا۔
Load/Hide Comments



