آئی ایم ایف مشن چیف کا بیان داخلی معاملات میں مداخلت ہے،ہر وقت پلان بی موجود ہے، وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا

اسلام اآباد(آن لائن) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا قرض پروگرام مکمل ہوئے بغیر ہی ختم ہونے کا امکان ہے۔اس خدشے کا اظہار وزارتِ خزانہ کے ذرائع کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے ذریعے کیا گیا ہے۔وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے دسویں اور گیارہویں اقتصادی جائزے کے لیے وقت نہیں ہو گا،دسویں اور گیارہویں اقتصادی جائزے سے قبل قرض پروگرام کا وقت ختم ہو جائے گا۔وزارتِ خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان موجودہ قرض کے معاہدے کی میعاد 30 جون ہے، جبکہ موجودہ قرض پروگرام کی میعاد نہیں بڑھائی جا سکتی۔ذرائع وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ نویں اقتصادی جائزے کے بعد آئی ایم ایف سے معاہدہ ختم ہو جائے گا، بجٹ کے لیے آئی ایم ایف سے نواں اقتصادی جائزہ ہر صورت میں مکمل کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ نواں اقتصادی جائزہ مکمل ہونے سے حکومت کو معاشی سطح پر درپیش چیلنجز میں کمی آئے گی۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزارتِ خزانہ کے حکام بجٹ تجاویز پر آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ دوسری جانب وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے آئی ایم ایف مشن چیف نیھتن پورٹر کے بیان کو پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیدیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان قانون کے مطابق ہی چل رہا ہے، آئی ایم ایف مشن چیف کا بیان غیر معمولی نوعیت کا ہے، پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت آئی ایم ایف کا مینڈیٹ نہیں ہے، قرض پروگرام میں تاخیر پاکستان اور آئی ایم ایف دونوں کے مفاد میں نہیں، وزیراعظم نے ایم ڈی آئی ایم ایف کو شرائط پر عمل درآمد اور پروگرام مکمل کرنے کی یقین دیہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے نئے بجٹ سے پہلے اسٹاف لیول معائدہ ہو جائے گا، 30 جون کو آئی ایم ایف پروگرام ختم ہو جائے گا، آئی ایم ایف سے ڈیل نہ ہوئی تو وزارت خزانہ آنکھیں بند کرکے نہیں بیٹھی، ہر وقت پلان بی بھی موجود ہوتا ہے، ہماری ترجیح آئی ایم ایف پروگرام ہے، نئے مالی سال کا بجٹ الیکشن ایئر بجٹ ہوگا، نیا بجٹ 9 جون کے حساب سے تیار کیا جارہا ہے، نئے بجٹ میں عوام کو ریلیف دیا جائے گا۔وزیر مملکت خزانہ کا کہنا تھا کہ کوشش ہوگی عام آدمی پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، آئی ایم ایف پاکستان کو ٹارگٹڈ سبسڈی کی اجازت دیتا ہے۔