مصطفیٰ کمال نے روایتی طور پر وزیر اعلیٰ سندھ پر بے بنیاد الزامات لگائے،شرجیل میمن

کراچی (آن لائن) وزیر اطلاعات،ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ سندھ شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ مصطفیٰ کمال نے روایتی طور پر وزیر اعلیٰ سندھ پر بے بنیاد الزامات لگائے،مصطفٰی کمال کی پارٹی وفاقی حکومت میں اتحادی ہے اگر انہیں اپنی پارٹی میں کوئی مسئلہ ہے تو وہاں طے کریں بے بنیاد الزام تراشی نہ کریں،جب آپ کی پارٹی سورہی تھی تو وزیر اعلیٰ سندھ کراچی حیدرآباد، سکھر،نواب شاہ اور سندھ کے دیگر علاقوں کے شہریوں کی درست مردم شماری اور صوبے کے عوام کو درست گنوانے کے لئے لڑرہے تھے آواز اٹھا رہے تھے۔ ریکارڈ گواہ ہے کہ سندھ حکومت نے صوبے کے عوام کی درست گنتی کے لئے ہر فورم پر موثر آواز بلند کی ہے۔ سندھ آرکائیوز کمپلیکس کلفٹن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ چیئرمین بلاول نے تو اپنی ایک پریس کانفرنس میں یہاں تک کہا تھا کہ مردم شماری درست نہیں ہوگی تو ہم اتحاد سے بھی نکل سکتے ہیں۔وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بہترین سرکاری طبی سہولیات کراچی میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ تعصب کی باتیں مناسب نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی تعصب کی سیاست کو مسترد کرتی ہے۔وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ لوگ اب آپ کی اس طرح کی تعصبانہ باتوں میں نہیں ائیں گے لہذا آپ ماحول خراب نہ کریں۔وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ عمران خان کا موقف تھا کہ مرجاؤں گا مگر ان لوگوں سے مذاکرات نہیں کروں گا۔ لیکن اب یہی عمران خان ان ہی لوگوں سے مذاکرات کے لئے بیتاب ہورہا ہے۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ عمران خان کی اعلان کردہ مذاکراتی کمیٹی کے آدھے لوگ روپوش ہیں۔ ان لوگوں کی 9مئی کے تخریبی عمل میں ملوث ہونے کی تصاویر آچکی ہیں۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آپ کے لئے زرداری کہہ چکے ہیں کہ پہلے عمران خان اپنی زیادتیوں کی معافی مانگیں پھر مذاکرات ہونگے۔وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ عمران خان آپ نے اس ملک کو بہت نقصان پہنچایا اور اب آپ مذاکرات کی بات کررہے ہیں۔انہوں نے یادلایا کہ امریکن کیپٹل ہل پر حملہ کرنے والوں کو 18 سال کی قید ملی ہے۔آپ کے جرائم تو اس سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ سعودی عرب میں مدین? منورہ میں جو تخریبی کارروائی ہوئی اس کی مذمت عمران خان نے نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ جو شخص تخریبی کارروائیوں پر لوگوں کو اکسانے کا کھلواڑ کرتا رہا ہے وہ ابھی تک آزاد ہے۔