اٹارنی جنرل نے پانچ رکنی بنچ پر اعتراض اٹھا دیا،بہت ہو گیا اٹارنی جنرل صاحب آپ بیٹھ جائیں، جسٹس عمر عطاء بندیال

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے آڈیو لیک کمیشن کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا،مختصر فیصلہ آج ہی سنایا جائے گا۔جمعہ کو عدالت عظمیٰ میں معاملہ کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے کی۔سماعت کے آغاز میں ہی اٹارنی جنرل آف پاکستان نے عدالت کے سامنے پیش ہو کر درخواستوں کی سماعت کیلئے قائم پانچ رکنی بنچ پر اعتراض اٹھایا تو چیف جسٹس آف پاکستان نے ریما رکس دیئے کہ حکومت کیسے سپریم کورٹ کے ججز کو اپنے مقاصد کیلئے منتخب کر سکتی ہے،یہ عدلیہ کی آزادی کا معاملہ ہے،حکومت نے چیف جسٹس کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کہ قانون سازی جلدی میں کی،ہم نے سوال پوچھا کہ 184 بی میں لکھا ہے کم از کم 5 ججز کا بینچ ہو،اگر آپ نے ہم سے مشورہ کیا ہوتا تو ہم آپ کو بتاتے،9 مئی کے واقعہ کا فائدہ یہ ہوا کہ جوڈیشری کے خلاف جو بیان بازی ہو رہی تھی وہ ختم ہو گئی، حکومت ہم سے مشورہ کرتی تو کوئی بہتر راستہ دکھاتے،حکومت نے ضمانت اور فیملی کیسز کو بھی اس قانون سازی کا حصہ بنا دیا،حکومت کو چاہیئے کہ ہمارے انتظامی معامالات میں مداخلت نہ کرے،ہم حکومت کا مکمل احترام کرتے ہیں،عدلیہ بنیادی انسانی حقوق کی محافظ ہے،وفاقی حکومت عدلیہ کے معاملات میں کوارٹرز کا خیال کرے،انکوائری کمیشن میں حکومت نے خود ججز تجویز کئے،اس سے پہلے تین نوٹیفیکیشن میں حکومت نے ججز تجویزکئے جنہیں بعد میں واپس لیا گیا،1956 ایکٹ آئین کے احترام کی بات کرتا ہے،وفاقی حکومت سیت ایک دفعہ پھر گزارش کرتا ہوں کہ آئین کا احترام کرتے ہوے روایات کے مطابق عمل کریں،معذرت سے کہتاہوں حکومت نے ججز کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی،چیف جسٹس نے اس موقع پر اٹارنی جنرل آف پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بہت ہوگیا ہے اٹارنی جنرل صاحب آپ بیٹھ جائیں،درخواست گزار صدر سپریم کورٹ بار کے وکیل شعیب شاہین نے اس موقع پر دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ کسی بھی حاضر سروس جج کو کمیشن میں تعینات کرنے سے پہلے چیف جسٹس کی مشاورت ضروری ہے،کسی پرائیویٹ شخص کو بھی کمیشن میں لگانے سے پہلے مشاورت ضروری ہے کیونکہ اس نے جوڈیشل کاروائی کرنی ہوتی ہے،فون ٹیپنگ بذات خود غیر آئینی عمل ہے،انکوائری کمیشن کے ضابطہ کار میں کہیں نہیں لکھا کہ فون کس نے ٹیپ کیے،حکومت تاثر دے رہی ہے فون ٹیپنگ کا عمل درست ہے،حکومت تسلیم کرے کہ ہماری کسی ایجنسی نے فون ٹیپنگ کی،آرٹیکل 209کے تحت یہ اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کا ہے،جوڈیشل کونسل کا اختیار انکوائری کمیشن کو دے دیا گیا، کمیشن نے پورے پاکستان کو نوٹس کیا کہ جس کہ پاس جو مواد ہے وہ جمع کروا سکتا ہے،کوئی قانونی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا،سپریم کورٹ افتحار چوہدری اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں فیصلے دے چکی ہے،پیمرا نے اس پر کوئی کاروائی نہیں کی،حکومت نے بھی پیمرا سے کوئی بازپرس نہیں کی،فون ٹیپگ اور بگنگ شہری کی پرائیویسی کے خلاف ہیں،پاکستان کا آئین اور قانون اس کی اجازت نہیں دیتا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں بھی اکثریتی فیصلے میں کچھ ایسا اصول طے ہوا تھا،ججز کی سرویلنس کی ممانعت کی گئی ہے،کوئی ایسا قانون نہیں جو ایجینسیوں کو شہریوں کے فون ٹیپ اور پرائیویسی کو مجروح کرنے کا اختیار دیتا ہو،پرائیویسی مجروح کرنا بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے،جمہوری حکومت کی ذمہ درای ہوتی ہے کہ آئین کی حکمرانی اور قانون کی پاسداری کے پیش نظر شہریوں کے بنیادی حقوق اور انکی پرائیویسی کے تحفظ کو مقدم رکھے۔چیف جسٹس اف پاکستان نے درخواست گزار کے وکیل کے دلائل سنتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل میں نہیں لکھا کہ فون ٹیپنگ کس نے کی؟فون ٹیپنگ ایک غیر آئینی عمل ہے،فون ٹیپنگ پر بے نظیر بھٹو حکومت کیس موجود ہے،جسٹس قاضی فائز عیسی کیس میں بھی اصول طے کیے ہیں،کس جج نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی اس کا تعین کون کرے گا، لگتا ہے انکوائری کمیشن نے ہر کام جلدی کیا ہے،بظاہر آڈیو لیکس کمیشن کی تشکیل کے نوٹیفکیشن میں غلطیاں ہیں،بادی النظر میں آڈیو لیکس کمیشن عدلیہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے،آئین عدلیہ کو مکمل آزادی دیتا ہے،جو تحقیقات اداروں نے کرنی تھی وہ ججز کے سپرد کردی گئی،ہمارے پاس کوئی اور ڈھانچہ نہیں صرف اخلاقی اور انصاف کی طاقت ہے۔جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ ٹیلی فون پر گفتگو کی ٹیپنگ نہ صرف غیر قانونی عمل ہے بلکہ آرٹیکل 14 کے تحت یہ انسانی وقار کے بھی خلاف ہے اس کیس میں عدلیہ کی آزادی کا بھی سوال ہے،آرٹیکل 209 ایگزیکٹو کو اجازت دیتا ہے کہ صدراتی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج سکتی ہے،بظاہر وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس ججز کے خلاف مواد اکٹھا کر کہ مس کنڈیکٹ کیا ہے، جب یہ آڈیو چلائی جا رہی تھی کیا حکومت یا پیمرا نے اس کو روکنے کی کوئی ہدایت جاری نہیں کی، وفاقی حکومت نے آئین میں اختیارات کی تقسیم کی خلاف ورزی کی ہے،ججز اپنی مرضی سے کیسے کیمشن کا حصہ بن سکتے ہیں، اعلیٰ عدلیہ کے کسی جج کے خلاف بھی چیف جسٹس کی اجازت سے جوڈیشل کونسل کے علاوہ کسی دوسرے فورم پر جا سکتے ہیں،میٹھے الفاظ استعمال کر کے کور دینے کی کوشش کی جارہی ہے،بظاہر اختیارات کی تقسیم کے آئینی اصول کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے،یہ انتہائی پریشان کن صورتحال ہے۔اٹارنی جنرل آف پاکستان نے ججز کے استفسار پر کہا کہ پیمرا کی حد تک عدالت سے متفق ہوں۔بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے معاملہ پر سماعت مکمل کرتے ہوئے اپنا محفوظ کر لیا ہے۔کیس کا مختصر فیصلہ آج ہی جاری کیا جائے گا.