ترکی میں اردوان کی جیت یقینی، مغرب کیخلاف جارحانہ پالیسی جاری رکھنے کا فیصلہ

انقرہ (آن لائن)ترکی میں 28 مئی کو صدارتی الیکشن کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگا جس میں طیب اردوان کی جیت یقینی ہے۔اردوان نے مغرب کے خلاف جارحانہ انداز جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔پہلے مرحلے میں 14 مئی کو پہلے مرحلے کے الیکشن میں کوئی بھی امیدوار مطلوبہ پچاس فیصد ووٹ حاصل نہیں کر سکا تھا۔صدر رجب طیب اردوان اور حزب اختلاف کے مشترکہ امیدوار کمال قلیچداراوغلو کے درمیان مقابلہ ہوگا جو ملک کی سیاسی تاریخ میں اس طرح کا پہلا مقابلہ ہوگا۔18 مئی کو ایک تقریر میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ’اردوغان، آپ نے ملک کی سرحدوں اور عزت کی حفاظت نہیں کی، آپ جان بوجھ کر ایک کروڑ سے زائد مہاجرین کو اس ملک میں لائے، اقتدار میں آتے ہی تمام مہاجرین کو گھر بھیج دوں گا،اردوان کی ایک اور انتخابی کامیابی کی صورت میں وہ نئے صدارتی نظام حکومت کے تحت اپنی دوسری اور آخری پانچ سالہ مدت سنبھالیں گے۔ ان کے بعد کے منصوبے واضح نہیں ہیں اور انہوں نے دو دہائیوں سے زیادہ اقتدار میں رہنے کے بعد عوامی طور پر کسی جانشین کا نام نہیں لیا ہے۔بہر حال اردوغان سے توقع کی جائے گی کہ وہ اپنے اختیارات کی مرکزیت کو جاری رکھیں گے، ریاستی اداروں پر اپنی گرفت کو مزید مضبوط کریں گے اور منحرفین کے خلاف کریک ڈاؤن کریں گے۔ان سے یہ بھی توقع کی جائے گی کہ وہ مغرب کے حوالے سے اپنی جارحانہ خارجہ پالیسی کو جاری رکھیں گے، کیونکہ ترکی روس اور چین کے ساتھ قریبی تعلقات کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔قلیچداراوغلو کی جیت آئینی غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ ان کی صدارت کو عوامی اتحاد کی پارلیمانی اکثریت سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔