لاہور(آن لائن) نگران وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر نے کہا ہے کہ ریاست پاکستان کی رٹ چیلنج کرنے والوں کی ایسی دوڑیں لگوائیں گے کہ وہ اولمپکس میں بھی حصہ لینے کے قابل ہو جائینگے،انٹیلی جنس معلومات ہیں آرمی تنصیبات پر حملہ کرنے والے 30سے 40دہشتگرد زمان پارک میں عمران خان کی رہائش گاہ پر موجود ہیں،24گھنٹے میں ان کی حوالگی نہ ہوئی تو پھر آ پریشن ہوگا،9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بھی بنا دی گئی ہے، وزیر اعلیٰ نے بلوائیوں، حملہ آوروں سے نمٹنے کے لیے پنجاب پولیس کو فری ہینڈ دے دیا،حکومت اب زیر و ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہوگی کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ کرنے والوں کے پی ٹی آئی رہنماؤں کے ساتھ مکمل رابطے تھے۔لاہور میں پریس کانفرنس سے کرتے ہوئے عامر میر نے کہا کہ یہ شواہد بھی سامنے آئے ہیں کہ کور کمانڈر ہاؤس میں جس وقت حملہ ہو رہا تھا جو شام 8 بجے تک جاری رہا، اس وقت حملہ آوروں میں سے کئی لوگوں کا رابطہ تھا زمان پارک میں موجود پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کے ساتھ تھا وہاں پر موجود حملوں کے ہینڈلرز ان کے ساتھ رابطے میں تھے اور انہیں بتا رہے تھے کہ آپ نے کس حد تک جانا ہے، کیا کرنا ہے۔ وزیر ا طلاعات نے کہا کہ اداروں کے پاس انٹیلی جنس اور ٹیکنیکل تصدیق بھی آچکی ہے، جیو فینسنگ کے ذریعے بھی کہ یہ لوگ وہاں پر موجود ہیں، ان میں وہ لوگ بھی موجود ہیں، جنہوں نے جناح ہاؤس کے اندر گھس پر آگ لگائی، توڑ پھوڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس معلومات آئی ہے کہ آرمی کی تنصیبات پر حملہ کرنے والے 30 سے 40 دہشتگرد اس وقت زمان پارک میں خان صاحب کی رہائش گاہ پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت کو درخواست کی جارہی ہے کہ ان دہشت گردوں کو پنجاب پولیس کے حوالے کر دیں، پی ٹی آئی کی قیادت کو 24 گھنٹے دے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آگ لگانے کی ہدایت دی گئی ہیں، جس کا ثبوت اداروں کے پاس موجود ہے، اس لیے عسکری اور سیاسی قیادت نے فیصلہ کیا کہ فوجی تنصیبات پر دہشت گردوں کے جو حملے تھے، ان میں ملوث افراد کی مختلف کیٹیگریز ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ بھی ہو گیا ہے کہ ملٹری کورٹس اور دہشت گردی کی عدالتوں میں ٹرائل ہوگا، جس شرپسند کے جرم کی جو نوعیت ہے، اسی حساب سے فیصلہ ہوگا کہ اس کا ٹرائل کس عدالت میں ہوگا لیکن یہ طے ہو گیا ہے کہ ان لوگوں کو نشانِ عبرت بنایا جائے گا تاکہ آئندہ اس طرح کرنے کی کوئی جرات نہ کرے۔عامر میر نے بتایا کہ نادرا کو ان حملوں میں ملوث لوگوں کی تصاویر گریب کرکے دی جارہی ہیں اور نادرا اپنے سسٹم سے ان لوگوں کی تفصیلات اداروں کو فراہم کررہا ہے، جن کی بنیاد پر انلوگوں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بھی بنا دی گئی ہے اور وزیر اعلیٰ نے بلوائیوں، حملہ آوروں سے نمٹنے کے لیے پنجاب پولیس کو فری ہینڈ دے دیا۔ 9 مئی کو پی ٹی آئی کے شرپسندوں نے ریڈ لائن کراس کی تھی، جس کے بعد سے اب تک 3 ہزار 400 سے زائد حملہ آور گرفتار ہو چکے ہیں، اور ان کے خلاف درج مقدمات کی تعداد 254 ہے، ان میں سے 795 حملہ آوروں کی شناخت ہو چکی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ان میں سے 78 کا جسمانی ریمانڈ ہو چکا ہے جبکہ 609 کا جوڈیشل ریمانڈ ہو چکا ہے۔۔ آخری شرپسند کی گرفتاری تک شناخت کا عمل جاری رہیگا جبکہ اس دوران پنجاب میں دفعہ 144 نافذ رہے گی۔
Load/Hide Comments



