لاہور(آن لائن)تحریک انصاف کے کارکنان پر کریک ڈاؤن، سوشل میڈیا پر پابندیوں پر حماد اظہر نے حکومت پر سخت تنقید کی،حماد اظہر نے کہا کہ پاکستان میں ٹویٹ اور فیس بک پوسٹ کرنے پر بھی اب لوگوں کو اٹھایا جا رہا ہے، وہ گھر پر نا ملیں تو کسی گھر کے فرد کو لے جاتے ہیں، پھر کہا جاتا ہے کے آن لائن پوسٹ ڈیلیٹ کرو اور معافی مانگو اگر جان چھڑانی ہے، یہ عمل حکمرانی کی ایک خاص قسم کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، پچھلے 13 ماہ اور خصوصاً پچھلے 6 دن کے واقعات ایک پوری قوم نے دیکھے ہیں، ان کے تصورات پر گہرا اثر پڑا جو ڈنڈے سے تبدیل نہیں ہونا،ضرورت اس چیز کی تھی کے پورا پاکستان دیکھے کریاست کے تمام ادارے جمہوریت، آئین اور انسانی حقوق کے ساتھ کھڑے ہیں، عوام کا اپنے حکمران خود منتخب کرنے کا اختیار واپس دیا جاتا ہے،لوگوں کو احساس دلایا جاتا کے ریاست ان کے ووٹ سے اور ان کی خدمت کے لئے وجود میں ہے، تاریخ کے بڑے سانح تب ہی پیش آتے ہیں جب ارباب اختیار یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کے ہر چیز کا حل ڈنڈا ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہیں، بے شک صرف اللہ کی ذات ہر چیز پر غالب ہے اور وہ اس کا ثبوت بار بار تاریخ میں دیتا ہے لیکن تاریخ اور تحریک کے مطالعے میں اکثر حکمران دلچسپی نہیں رکھتے،وہ سمجھ بیٹھتے ہیں کے تاریخ بھی وہ خود ہیں اور تاقیامت تک مستقبل بھی،اب اس سوچ کو لے کر قیادت/بادشاہت کرتے ہیں،قیادت معاملات کو عقل، دانش اور صبر سے حل کرنے کا نام ہے، حکمرانی لوگوں کے دل جیتنے کا اور ان کی زندگیاں تبدیل کرنے کا نام ہے،اپنے عارضی اقتدار کا روب اور جلال دکھانے کا نہیں،ہر قسم کا وقت گزر جاتا ہے لیکن پریشانی یہ ہے کے قوموں کے شعور میں جو تصورات نقش ہو جاتے ہیں وہ صدیوں تک قائم رہتے ہیں، بدقسمتی سے یہ سوشل میڈیا کی پوسٹ کی طرح ڈیلیٹ نہیں ہوتے، پچھلے 13 ماہ میں لاکھوں ہنر مند افراد پاکستان چھوڑ کر چلے گئے، معیشت تباہ ہوگئی، بے روزگاری اور مہنگائی کا سیلاب آ گیا،اس دوران ہمارے حکمران جبر اور ظلم کے نئے نئے طریقے ڈھونڈتے رہے اور اب خواتین پر تشدد، ہزاروں بے گناہ لوگوں کی غیر قانونی حراست اور کئی درجن شہید کر کے یہ امید لگا بیٹھے ہیں کے وہ شاید ہر چیز پر غالب ہیں، ہاتھ میں ڈنڈا ہے اور ایک پوری نسل کے تصورات اور پچھلے 13 ماہ اور حصوصاً پچھلے چند دن کی تاریخ کو اس ڈنڈے سے ڈیلیٹ کرنا ہے،ایک مشہور کہاوت ہے کے جو تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے وہ تاریخ کو دھرانے کی سزا پاتے ہیں۔
Load/Hide Comments



