کراچی (آن لائن) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں واضح تقسیم ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ آئین کی پاسداری کرے اور امید ہے کہ عدالت عمران خان کی گرفتاری کے بعد دفاعی اور سول تنصیبات پر وحشیانہ حملوں کو سنجیدگی سیلے گی۔ یہ بات انہوں نے سول اسپتال کراچی میں قائم سندھ انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانس اینڈوسکوپی اینڈ گیسٹرو اینٹرولوجی (SIAG) کی افتتاحی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔مراد علی شاہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سپریم کورٹ کے ججوں کی تقسیم 8-7 یا 9-7 بتائی جارہی ہے جو کہ حیران کن ہے لیکن اس کی ایک بڑی وجہ ماورائے آئین فیصلے ہیں، جس کی وجہ سے عدلیہ کو بحران جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ امن و امان کی کشیدہ صورتحال 9 مئی 2023 کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پیدا کی گئی، کراچی شہر میں جو کچھ ہوا وہ ملک کے دیگر صوبوں کے شہروں کے مقابلے میں بہت کم تھا لیکن اس کے باوجود شاہراہ فیصل میدان جنگ کا منظر پیش کرتا رہا جہاں ایک رینجرز چیک پوسٹ، ایک پولیس موبائل، پیپلز بس، دو واٹر بورڈ باؤزر اور مختلف درختوں کو آگ لگا دی گئی ساتھ ساتھ دیگر سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچا یا گیا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ تشدد اور آتش زنی میں ملوث ملزمان کی سی سی ٹی وی کے ذریعے شناخت ہو چکی ہے اور ان میں سے کچھ کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور کچھ انڈر گراؤنڈ ہوچکے ہیں تاہم ہم انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے عدلیہ پر زور دیا کہ وہ قانون کی حکمرانی کے قیام میں حکومت کا ساتھ دیں۔مر اد علی شاہ نے کہا کہ شرپسندوں نے نہ صرف جناح ہاؤس (اب کور کمانڈر ہاؤس لاہور) پر حملہ کیا بلکہ اسے آگ بھی لگائی۔ انہوں نے وہ یادگار جنگی طیارہ بھی نذر آتش کیا جسے ایم ایم عالم نے 1965 کی جنگ میں ایک منٹ میں پانچ بھارتی طیاروں کو مار گرانے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا گھناؤنا عمل تھا جو ہندوستانی نہ کر سکے مگر ہمارے نام نہاد سیاسی کارکنوں نے کردیا۔انہوں نے کہا کہ سرکاری و نجی املاک، قومی یادگاروں اور اہم تنصیبات کو نقصان پہنچانے میں ملوث ہر فرد کو نہ صرف گرفتار کیا جائے گا بلکہ اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ عمران خان وہ واحد شخص ہے جسے نیٹ وارنٹ کے ذریعے گرفتار کیا گیا اور اْس نے اپنے کارکنوں کو تنصیبات پر حملے کا مشور دیا جبکہ سابق صدر پاکستان، سابق وزرائے اعظم اور موجودہ اسپیکر(سندھ اسمبلی) کو نیب نے گرفتار کیا لیکن ان میں سے کسی نے بھی اپنے کارکنوں کو تنصیبات پر حملوں اور بسوں اور پولیس موبائلوں کو جلانے پر نہیں اکسایا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدلیہ صورتحال کا ادراک کرے گی اورانہوں نے یہ سنا ہے کہ عدلیہ میں تقسیم چھ سے ’سات/ نو‘ تک پہنچ گئی ہے اور امید ہے کہ یہ 15 سے صفر تک پہنچ جائے گی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ ملک میں آزادانہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ذمہ داری ہے۔
Load/Hide Comments



