اسلام آباد میں دفعہ 144 اور آرٹیکل 245 پہلے ہی نافذ،حساس عمارتوں پر فوجی دستے تعینات

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 کے علاوہ آرٹیکل 245 بھی نافذ ہے اور تمام سرکاری عمارتوں کے باہر فوجی دستے بھی تعینات ہیں۔اسسٹنٹ کمشنراسلام آباد نے ریڈ زون میں سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا ہے.نقشے کے مطابق ریڈ زون میں جو اضافی سیکٹرشامل کیے گئے ہیں ان میں ایف 7، جی 6، جی 7، ای 7 شامل ہیں۔ بلیو ایریا، پمز اور زیروپوائنٹ بھی اب ریڈ زون کا حصہ ہیں۔ تفصیل کے مطابق ترجمان جے یوآئی کا کہنا ہے دھرنا ڈی چوک منتقل کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، دھرنا سپریم کورٹ کے سامنے ہی ہوگیا۔ترجمان نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ اور جے یو آئی کی مقامی قیادت کے درمیان رابطہ ہوا ہے، ضلعی انتظامیہ نے دھرنے کو ڈی چوک منتقل کرنے کی درخواست کی ہے تاہم جے یوآئی نے دھرنا ڈی چوک منتقل کرنے سے انکار کردیا ہے۔اور کہا ہے کہ جب تک فضل الرحمان نہیں مانتے فیصلہ تبدیل نہیں ہوگا۔ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا کہنا تھاکہ تاحال پی ڈی ایم جماعتوں کو دھرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔اسلام آباد انتظامیہ کے مطابق ریڈزون میں مظاہرین کو ابھی داخلے کی اجازت نہیں ملی۔اجازت ملنے کے بعد ہی مظاہرین ریڈ زون میں داخل ہوسکتے ہیں۔سرینہ چوک کا ریڈ زون کا جانے والا داخلی راستہ گاڑیوں کی آمدرفت کیلئے بند ہے، اور پولیس کا کہنا ہے کہ پیدل چل کر قافلے کے شرکاء کو ریڈزون میں داخلے کی اجازت ہوگی۔سرینہ ریڈ زون انٹری پر واک تھرو گیٹ نصب کر دیئے گئے ہیں، پیدل جانے والوں کو کڑی چیکنگ کے بعد داخلے کی اجازت ہے، ہیلی کاپٹر سے ریڈزون کی سیکورٹی کا جائزہ لیا جارہا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ریڈ زون میں بڑی گاڑیوں کا داخلہ نہیں پیدل جاسکتے ہیں۔صرف ملازمین اور متعلقہ لوگوں کو داخلے کی اجازت ہے۔چھوٹی گاڑیوں کو بھی داخلے کی اجازت ہے۔سرینہ چوک پر قافلوں میں شریک تمام بڑی بسوں کو داخلے سے روک دیا گیا۔کارکنان سرینہ چوک ناکے پرہی جمع ہونا شروع ہوگئے جبکہ پولیس، ایف سی، رینجرز کی بھاری نفری بھی داخلی راستوں پر موجود ہے۔ریڈزون میں داخلے کیلئے گاڑیوں کی لمبی قطاروں کے باعث لوگوں کو شدید دشواری کا سامنا ہے۔پی ڈی ایم قیادت کی طرف سے کارکنان کو سرینا چوک پہنچنے کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کوئی بھی قافلہ متبادل کوئی روٹ اختیار نہ کرے۔ ڈپٹی جنرل سیکرٹری جے یو آئی کے مطابق تمام قافلے سرینگر ہائی وے سے سرینا چوک پہنچیں گے۔ ریڈ زون میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے، پولیس، ایف سی کے علاوہ رینجرز اور لیڈی پولیس کی بڑی تعداد تھوڑے تھوڑے فاصلے پر تعینات کی گئی ہے۔ شاہراہ دستور پر عام عوام سے زیادہ سیکیورٹی اہلکار موجود ہیں۔