کراچی(آن لائن)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی اپنے تمام تر ہتھکنڈوں، حکومتی جبر و تشدد، بدترین دھاندلی اور الیکشن پر قبضے کے باوجود اکثر یت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے،پیپلز پارٹی کی فسطائیت کا انتقام جمہوریت سے لیں گے، خریدو فروخت جو بھی کرے گا وہ اپنے منہ پر کالک ملے گا۔ پیپلز پارٹی کراچی میں اپنامیئر لانے کے لیے انسانوں کی منڈی لگانے، لوگوں کو خریدو فروخت کرنے سے باز رہے، جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے درمیان بات چیت میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے، کراچی کا میئر ہمارا ہی ہو گا، بلاول بھٹو جمہوریت کے نام پر فاشزم مسلط کرنے، ریاستی جبر و تشدد اور الیکشن پر قبضہ کر کے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالنے اور مردم شماری میں کراچی کی آدھی آبادی کو ایک بار پھر قتل کرنے کا جشن منا رہے ہیں، اہل کراچی پیپلز پارٹی کی کراچی دشمنی سے آگاہ ہیں اور اس سے نفرت کرتے ہیں 15جنوری اور 7مئی کو اس فاشٹ پارٹی کو مسترد کر چکے ہیں، اہل کراچی جماعت اسلامی کے ساتھ ہیں اور کراچی کو وڈیروں و جاگیرداروں کی اوطاق ہر گز نہیں بننے دیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرجنرل سکریٹری کراچی منعم ظفر خان، نائب امراء برجیس احمد،راجا عارف سلطان، محمد اسحاق خان، عبدالوہاب، ڈپٹی سکریٹریز عبدالرزاق خان، نوید علی بیگ، عبد الرحمن فدا، پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کراچی کے صدر سیف الدین ایڈوکیٹ، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ودیگر بھی موجود تھے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ گورنر سندھ مردم شماری میں اہل کراچی کی گنتی پوری کروانے کے اپنے وعدے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں، کراچی کی آبادی پر ایک بار پھر سودے بازی کی جا رہی ہے، کسی بھی قسم کی سودے بازی کراچی کے خلاف جرم ہو گا، حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہماری تجویز تھی کہ کراچی میں میئر کا انتخاب براہ راست کیا جائے لیکن اسے نہیں مانا گیا، کسی بھی فرد کے میئر کے انتخاب میں حصہ لینے کے ہم خلاف نہیں لیکن جب میئر کے انتخاب کا وقت قریب آگیا ہے اس طرح کی ترامیم کرنا بد نیتی اور من پسند نتائج حاصل کرنے کی کوشش ہے، جماعت اسلامی میئر کے انتخاب کے حوالے سے از سر نو دیگر پارٹیوں سے بھی رابطے کرے گی۔ پی ٹی آئی کے ساتھ ملنے سے ہمارے ووٹ191ہو جائیں گے جبکہ پیپلز پارٹی کو ہر صورت میں 24ووٹوں کی ضرورت ہو گی جس کے لیے وہ خرید و فروخت کرے گی، پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح کراچی میں جیالا میئر آجائے اس کے لیے اس نے شروع ہی سے غیر جمہوری ہتھکنڈے اختیار کیے اور سندھ حکومت کے تمام اختیارات و وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا، سب سے پہلے حلقہ بندیوں میں جعل سازی کی اور جب15جنوری کو اسے بد ترین شکست ہو گئی تو اس نے آر اوز اور ڈی آراوز کے ساتھ مل کر نتائج میں تبدیلی اور دھاندلی کی اور ہماری جیتی ہوئی سیٹوں پر ڈاکا ڈالا، دوبارہ گنتی کے نام پر سیٹیں چھینی گئیں اور الیکشن کمیشن اس پورے عمل میں پیپلز پارٹی کا آلہ کار بنا رہا.
Load/Hide Comments



