مارشل لاء کا کوئی امکان نہیں ہے،خواجہ آصف

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر دفاع نخواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر حالات ایسے رہے تو ایمرجنسی ایک آئینی آپشن ہے،ہم آئین اور قانون کے مطابق اقدام لے سکتے ہیں، مارشل لاء کا کوئی امکان نہیں ہے، عمران خان کو مبارک ہو عدالت میں صحیح سلامت چلتے گئے۔دو راتوں میں ہی انہیں شفا مل گئی انہیں مبارکباد دیتا ہوں۔روح کی شفا ملنا میرا کام نہیں ہے،میری جسارت نہیں سوال پوچھوں مگر یہ سوال ضرور سامنے لانا چاہتا ہوں،نواز شریف سے لیکر مجھ تک ورکر عدلیہ کے اس حسن سلوک سے کیوں محروم رہے،آج آرڈر کی جگہ کہا گیا خواہش ہے ہماری عدالتیں حکم دیتی ہیں خواہشات کا اظہار نہیں کرتی ہیں،یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ہم تو عدالت کے حکم کے منتظر رہے تھے لیکن خواہش کا اظہار کیا گیا،یہ سوموٹو راتوں کے عدالتیں، اسی عمران خان کی آئین کی پامال کرتا رہا،شہباز شریف آشیانہ میں جاتا ہے پکڑ لیا صاف پانی میں،ہمیں تو نوے نوے دن حراست میں رکھا گیا،مجھے 12 دن کمبل دیکر لٹا دیا گیا تھا،اب تو انہیں سہولیات کا بھی پوچھا جاتا ہے،یہ دو معیار کیوں ہیں؟،انہوں نے کہا کہ وہ کہتے مجھے ڈنڈے مارے گئے کچھ یاد نہیں رہا،ابھی یادداشت جب چاہا غائب ہوگئی جب چاہا آگئی جیسے انہیں آسانی لگے،ابھی جو انکا میڈیکل ہوا اس میں اور انکے ذاتی اسپتال کے میڈیکل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ کیا انہوں نے تشدد کے لئے نہیں اکسایا؟ عدالت کو سوموٹو ایکشن لینا چاہے تھا۔شہدا کی یادگاروں پر حملہ کیا گیا،آرمی کی تنصیبات پر حملہ کور کمانڈر کے گھر پر حملہ ہوا،اس پر تو کوئی سوموٹو نہیں لیا۔اس پر عدلیہ کی تشویش کی لہر نہیں دوڑی،انہوں نے کہا کہ بڑی عزت اور آبرو سے اسے ایک ریسٹ ہاوس میں منتقل کردیا گیا۔آصف ذرداری اور مریم نواز تو کسی ریسٹ ہاوس میں نہ رہے،یہاں عدالت عظمی نے یقینی بنایا ہے ہر سہولت دی جائے اور دس بندے بھی جاکر مل سکتے ہیں،صرف ایک سوال پوچھتا ہوں یہ دہرا معیار کیوں ہے؟اسکے لیڈروں اور خواتین لیڈروں نے جو زبان استعمال کی سب نے سنیکس طرح ہدایات دی جارہی تھیں کہ کس جگہ جانا اور کہاں جانا ہے،بڑی نرمی سے کہا گیا ہماری خواہش ہے آپ درخواست ہی کہہ دیتے۔کوئی نہیں وقت آنے والے دنوں میں حالات کس طرف کروٹ لیتے ہے، خواجہ آصف نے کہا کہ اعظم سواتی سے کہا جارہا ہے کس فلاں سے رابطہ کریں،ہماری دفاعی تنصیبات پر جو حملہ ہوا ہے ہم سوچ بھی نہیں سکتے،جو لاہور، پشاور اسلام آباد میں ہوا یہ پی ٹی آئی کا ایک پیٹرن ہے۔وہ کہتا ہے میں نے کچھ نہیں کیا اور ہدایات بھی دیتا رہا۔ایوان صدر میں بیٹھا شخص تعمیل کی رپورٹ دیتا رہا۔جی ایچ کیو پر حملہ تحریک طالبان نے کیا تھا اور اب تحریک انصاف نے کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اتنی عزت و تکریم کی جارہی ہے ہمارے ہی نصیب خراب تھے،وہ کہتا مجھے یاد نہیں ہوسکتا ہے لوازمات پورے نہ ہوئے ہوں تو ایسا ہوا ہو۔ہم نے کبھی ادارے کی تکریم کو ٹارگٹ نہیں کیا، عمران خان سیاسی حریف کی بجائے فوج کے ادارے کو نشانہ بنا رہا ہے،مذاکرات میں ڈکٹیشن نہیں ہوتی، عمران خان کی ٹیم کو جو ڈکٹیشن مل رہی تھی مذاکرات ایسے نہیں ہوسکتے تھے۔: واجہ آصف نے کہاکہ بھارت کا سارا میڈیا چلا رہا ہے،جو مقاصد بھارت 70 سال میں حاصل نہیں کرسکا جو دو دن میں حاصل کرلئے، مجھے تو کور کمانڈر ہاوس پتا ہی نہیں یاسمین راشد کو پتا تھا،یہ لوگ پاکستان کے دوست نہیں ہیں خواجہ آصف نے کہاکہ یہ سب کو پری پلان تھا،یہ اتفاقی ردعمل نہیں تھا،عمران خان نے ورکرز کو تمام ہدایات دے رکھی تھیں۔خواجہ آصف نے کہا اعظم سواتی سے کہا جارہا ہے کس فلاں سے رابطہ کریں۔ہماری دفاعی تنصیبات پر جو حملہ ہوا ہے ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔جو لاہور، پشاور اسلام آباد میں ہوا یہ پی ٹی آئی کا ایک پیٹرن ہے۔وہ کہتا ہے میں نے کچھ نہیں کیا اور ہدایات بھی دیتا رہا۔ایوان صدر میں بیٹھا شخص تعمیل کی رپورٹ دیتا رہا۔جی ایچ کیو پر حملہ تحریک طالبان نے کیا تھا اور اب تحریک انصاف نے کیا ہے۔اتنی عزت و تکریم کی جارہی ہے ہمارے ہی نصیب خراب تھے۔وہ کہتا مجھے یاد نہیں ہوسکتا ہے لوازمات پورے نہ ہوئے ہوں تو ایسا ہوا ہو \عمران خان سیاسی حریف کی بجائے فوج کے ادارے کو نشانہ بنا رہا ہے۔مذاکرات میں ڈکٹیشن نہیں ہوتی۔عمران خان کی ٹیم کو جو ڈکٹیشن مل رہی تھی مذاکرات ایسے نہیں ہوسکتے تھے۔ خواجہ آصف نے کہا بھارت کا سارا میڈیا چلا رہا ہے۔جو مقاصد بھارت 70 سال میں حاصل نہیں کرسکا جو دو دن میں حاصل کرلئے۔مجھے تو کور کمانڈر ہاوس پتا ہی نہیں یاسمین راشد کو پتا تھا۔یہ لوگ پاکستان کے دوست نہیں ہیں۔یہ سب کچھ پری پلان تھا،یہ اتفاقی ردعمل نہیں تھا۔عمران خان نے ورکرز کو تمام ہدایات دے رکھی تھیں۔