اسلام آباد(آ ن لائن)پاکستان نے کہا کہ ہے کہ بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کیخلاف وورزیاں بند ہونی چاہیں، چند روز میں 6 کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا،2019 کے اقدامات نے بات چیت کا راستہ بند کر دیا ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کا درست فیصلہ کیا،دہشت گردی کا مسئلہ ہماری ریڈ لائن ہے،سہ فریقی مذاکرات میں پاکستان،چین اور افغانستان نے خطے کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے مشترکہ عزم کو دوہرایا ہے،پاکستان کے پاس اپنے اندرونی معاملات سے نمٹنے کے لیے تمام تر صلاحیت اور قانون موجود ہے۔ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے ہفتہ وار بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس کے لیے بھارت کے شہر گوا کا دورہ کیا،چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا،وزیر خارجہ نے شنگھائی تعاون تنظیم کے ممبر ممالک کے لیے ٹرانسپورٹ کاریڈور کی تجویز پیش کی،ایس سی او کانفرنس میں وزیر خارجہ نے سفارتیپوائنٹ سکورنگ کے لیے دہشت گردوں کی امداد کا نقطہ اٹھایا،افغان وزیر خارجہ امیر متقی وفد کے ہمراہ پاکستان کے دورے پر تھے،پاک چین اور افغانستان سہ فریقی مذاکرات بھی ہوئے،سہ فریقی مذاکرات میں ٹی ٹی پی سمیت انسداد دہشت گردی پر بات ہوئی،انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کو سہ فریقی مذاکرات کی دعوت دی،اعلامیہ میں واضح کیا گیا کہ دہشتگرد تنظیموں سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی،تینوں ممالک نے خطے کو درپیش خطرات پر مل کر کرنے کا عزم کا اظہار کیا،سہ فریقی مذاکرات میں اپنی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا،ممتاز زہرا بلوچ نے مزید کہا کہ پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کا درست فیصلہ کیا ہے،وزیر خارجہ نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان نے اپنا موقف بھرپور انداز میں پیش کیا،دہشت گردی کو خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے،کشمیر سمیت تمام اہشوز پر بات کی گئی،ترجمان نے کہا کہ سہ فریقی مذاکرات میں اپنی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا،اعلامیہ میں واضح کیا گیا کہ دہشتگرد تنظیموں سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی،تینوں ممالک نے خطے کو درپیش خطرات پر مل کر کرنے کا عزم کا اظہار کیا،ترجمان دفترخارجہ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری پر غیر ملکی سفیروں اور ممالک کی جانب س بیانات کے معاملے پرسوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے موجود صورتحال پر بیانات دیکھے ہیں،پاکستان کے پاس اپنے اندرونی معاملات سے نمٹنے کے لیے تمام تر صلاحیت اور قانون موجود ہے،پاکستان اور چین قریبی دوست ہیں،دونوں ممالک اہم معاملات پر مشاورت کرتے ہیں،چینی وزیر خارجہ کا پاکستان کے اندرونی معاملات پر بیان ایک دوست کا مشورہ تھا،پاکستان کے اندرونی معاملے پر تبصرہ نہیں کروں گی،پاکستان کے پاس اندرونی چیلنجز سے نمٹنے کے قوانین اور چیلنجز موجود ہیں،پاکستان نے گوا میں ہونے والے اجلاس میں اپنا موقف بھرپور انداز میں پیش کیا،ہم نے اجلاس میں مثبت اپروچ کے ساتھ شرکت کی،دہشت گردی کا مسئلہ ہماری ریڈ لائن ہے،ترجمان نے کہا کہ ترجما ن نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 6 کشمیری جوانوں کو چند دنوں میں شہید کیا،بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند ہونی چاہیں بھارت کے 2019 کے اقدامات نے بات چیت کا راستہ بند کیا،حالیہ دورہ دوطرفہ نہیں بلکہ کانفرنس میں شرکت کے لیے تھا،دورے کے دوران کسی دو طرفہ ملاقات یا مذاکرات کی درخواست نہیں کی گئی تھی،حالیہ دورہ خالصتاً شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شرکت سے متعلق تھا،ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ عرب لیگ میں شام کی واپسی مثبت عمل ہے،یہ خطے کے لیے انتہائی اہم ہے،پاکستان نے ہمیشہ مذکرات اور بات چیت کا خیرمقدم کیا ہے۔
Load/Hide Comments



