کراچی (آن لائن)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران نیازی کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنوں نے متعدد سرکاری گاڑیوں سمیت پبلک ٹرانسپورٹ کی بسوں، واٹر ٹینکرز اور کچرا اٹھانے والی گاڑیوں کو نذر آتش کیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی گرفتاری ان کے خلاف نیب میں دائر ایک مقدمہ کی صورت میں عمل آئی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بدھ کے روز وزیراعلیٰ ہاؤس سے اپنے جاری ایک بیان میں کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران نیازی کی گرفتاری قانون کے مطابق کی گئی ہے جس کی تصدیق اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی کی جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے ملک بھرمیں انتشار و شورش بھرپا کی۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے میں خاص طور پر کراچی میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے شاہراہ فیصل اورچند دیگر سڑکوں کو بلاک کیا جس سے لاکھوں لوگوں کو اپنے دفاتر اور گھروں تک پہنچنے میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہت سیکو اپنی پروازوں کے لیے ائیرپورٹ پہنچنے میں بھی بڑی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنوں نے متعدد سرکاری گاڑیوں سمیت پبلک ٹرانسپورٹ کی بسوں، واٹر ٹینکرز اور کچرا اٹھانے والی گاڑیوں کو نذر آتش کیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پرائیویٹ گاڑیوں اور عمارتوں کو بھی نقصان پہنچایا جس کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے پولیس کو ہدایت کی کہ امن و امان کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور ضلعی انتظامیہ کو سرکاری اور نجی املاک کی حفاظت کے ساتھ ساتھ آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے سڑکوں سے رکاوٹیں دورکرنے کی ہدایت کی تاکہ لوگ بنا کسی پریشانی کے اپنی منزلوں تک پہنچ سکیں۔ پولیس امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی سرکاری یا نجی املاک کو مزید نقصان پہنچانے سے روکنے کے لیے گرفتاریاں اور سڑکوں کی کلیئرنس سمیت ضروری اقدامات کرے۔ضلعی انتظامیہ وسندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ (SSWMB) نے سڑکوں سے ملبہ اٹھایا اور جلائی گئی/نقصان زدہ گاڑیوں کو ہٹا دیا گیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے گزشتہ رات کئی علاقوں کا دورہ کیا تاکہ شہر میں امن و امان کی صورتحال کوقرار رکھا جائے اور اگرجو کوئی بھی انتشار پھیلانے کی کوشش کرے یا سلامتی کے لیے خطرہ پیدا کرے تو اس کے ساتھ قانون کے تحت سختی سے نمٹا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بدھ کی صبح اور سہ پہر کے دوران اہم علاقوں اور سڑکوں کا دوبارہ جائزہ لیا۔انہوں نے کراچی کے پرامن باشندوں پر زور دیا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور ہر شہری کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے قانون کی پاسداری کریں۔
Load/Hide Comments



