اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی عدم موجودگی سے غیر یقینی صورتحال بڑھی،پاکستان کو ایک بڑے معاشی چیلینج کا سامنا ہے سیلاب سے پاکستان کو 30 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا،عالمی بینک کی ہیومن کیپٹل ریویو ریسرچ رپورٹ کا اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تقریب کے مہمان خصوصی و وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ انسانی وسائل کی ترقی ممالک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے،ہماری حکومت نے 1999 میں انسانی کی وسائل کیلئے جو اقدامات لیے وہ مارشل لا حکومت میں ضائع ہو گئے: ہماری حکومت نے 2013 میں انسانی وسائل کیلئے دوبارہ اقدامات شروع کیے مگر سیاسی تبدیلیوں نے دوبارہ پٹری سے اتار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں ترقیاتی بجٹ 1000 ارب روپے تھا رواں مالی سال ترقیاتی بجٹ کم ہو کر 727 ارب روپے ہو گیا پاکستان ایک اسٹرکچرل عدم توازن ہے پاکستان درمیانی آمدن والے ممالک میں شامل ہونا چاہیے تھامگر ہمارا انفراسٹرکچر غریب ترین ممالک کی طرح ہے پاکستان کو ایک بڑے معاشی چیلینج کا سامنا ہے سیلاب سے پاکستان کو 30 ارب ڈالر کا نقصان پہنچاپاکستان کے دورے پر آئی عالمی بینک کی نائب صدر واپسی پر آئی ایم ایف کو پاکستان کو رعایت دینے کی درخواست دیں آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط سیلاب سے قبل طے ہوئی تھیں سیلاب کے بعد پاکستان ان میں سے کچھ شرائط پر عملدرآمد نہیں کر سکتا۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی عدم موجودگی سے غیر یقینی صورتحال بڑھی ہے پاکستان کو اپنی برآمدات بڑھانے کی ضرورت ہے خواتین کیلئے ملازمت کے مواقعے بڑھانے کی ضرورت ہے ملک میں توانائی کی قیمت کم کرنے کی ضرورت ہے۔کلین اور گرین انرجی مسئلہ کا حل ہے غریبوں لوگوں کو غربت سے نکالنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے پاکستان کے 20 غریب ترین اضلاع میں غربت کے خاتمے کیلئے خصوصی پروگرام شروع کیا گیا ہے فروغ تعلیم کیلئے صوبوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کوشش ہے کہ سو فیصد بچوں کو اسکول میں داخلہ دلوائیں نظام تعلیم میں اصلاحات کی بھی ضرورت ہے ملک میں اساتذہ کی تربیت کیلئے اقدامات لیں گے متحانات کے نئے طریقہ کار پر بھی کام کیا جا رہا ہے پاکستان کی جامعات کو ایشیا کی سو بڑی جامعات میں شامل کرنے کیلئے کام جاری ہے طلبہ کو روزگار کی بجائے کاروبار کی طرف راغب کریں گے۔ اس موقع پر قائم مقام کنٹری ڈائریکٹر ورلڈ بینک گیلیس ڈریگولس نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دو کروڑ 30 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں،پاکستان میں بڑی تعداد میں بچے غذائی قلت کا شکار ہیں ،پاکستان میں عورتوں کی بڑی تعداد کو ملازمت کے مواقعے حاصل نہیں ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عالمی بینک کی نائب صدر ممتا مورتھی نے کہا کہ مجھے پاکستان سے پیار ہے میری والدہ کراچی میں رہیں انھوں نے مجھے پاکستان کے بارے میں بتایاپاکستان کو انسانی وسائل کی ترقی کیلئے سرمایہ کاری کرنا ہو گی انسانی وسائل کی ترقی کیلئے سب کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ پاکستان کو مالی مشکلات درپیش ہیں پاکستان کو اس وقت بھی انسانی وسائل کی ترقی کیلئے اقدامات جاری رکھنا ہے پاکستان درمیانی آمدن سے کم آمدنی والے ممالک میں جا سکتا ہے پاکستان مشکلات سے نکل سکتا ہے ملک کو مشکلات سے نکلنے کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا دستیاب مالی وسائل کو بہترین طریقہ کار کے مطابق استعمال میں لایا جائے۔
Load/Hide Comments



