پاکستان اپنی آبادی میں اضافے کی شرح کو کنٹرول کرکے خاطر خواہ معاشی نمو حاصل کر سکتا ہے، مراد علی شاہ

کراچی(آن لائن)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی آبادی میں اضافے کی شرح کو کنٹرول کرکے خاطر خواہ معاشی نمو حاصل کر سکتا ہے،صحت و تعلیم کی فراہمی میں مزید سرمایہ کاری اور لیبر فورس میں خواتین کی شمولیت سے بہترین نتائج نکل سکتے ہیں، جی ڈی پی آٹھ گنا بڑھانے کیلئے 2047 تک انسانی سرمایہ کاری کو یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو مقامی ہوٹل میں عالمی بینک رپورٹ”پاکستان ہیومن کیپیٹل ریویو” سے متعلق تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ میں عالمی بینک کی بصیرت افروز رپورٹ کی تقسیم کی تقریب میں سب کو خوش آمدید کہتا ہوں اورسندھ حکومت کی جدوجہد میں ترقیاتی شراکت داروں بالخصوص عالمی بینک کی معاونت کا شکریہ ادا کرتا ہوں،اس مشکل وقت میں سندھ کے عوام کی مدد کرنے والے تمام ممالک کا بھی مشکور ہوں۔انہوں نے کہا کہ پائیدار اقتصادی ترقی اور جامع ترقی میں انسانی سرمائے کے کلیدی کردار کو زیادہ نہیں بیان کیاجا سکتا، انسانی سرمایہ کاری کے فوائد کو عملی جامہ پہنانے میں وقت لگتا ہے اور فوری طور نتائج نہیں آتے،ہیومن کیپٹل ریویو (HCR) عالمی بینک کے وسیع تر ‘ہیومن کیپٹل پروجیکٹ’ کا حصہ ہے جسے 2018 میں شروع کیا گیا،نظرثانی رپورٹ سے پاکستان کے انسانی سرمائے کے نتائج کو بہتر بنانے کیلئے چیلنجز اور مواقع کا جائزہ لینا ہے، رپورٹ سے واضح ہوچکا کہ کئی ترجیحی نتائج میں بہتری کی ضرورت ہوتی ہے، بچوں کی ابتدائی نشوونما اور غذائیت کے معاملات پر پالیسیز مرتب کرنا ہونگی، اسکول سے باہر بچے، غربت سے نمٹنا اور لیبر مارکیٹ کے نتائج کا تجزیہ کرنا ہوگا،ہیومن کیپیٹل ریویو رپورٹ سے بہت سی معلومات سامنے اآئی ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ کوروناوائرس اور سیلاب 2022 نے ملک کو درپیش انسانی سرمائے کے چیلنجوں کو مزید بڑھا دیا ہے،کورونا اور سیلاب نے گزشتہ چند سالوں میں ہونے والے کئی انسانی سرمائے کے فوائد پر پانی پھیر دیا،پاکستان میں ہیومن کیپیٹل انڈیکس 0.41 ہے جو کہ ملک کی ذیلی انسانی ترقی کے نتائج کی نشاندہی کرتا ہے، بہتر نتائج کیلئے انسانی سرمائے میں اضافے پر مرکوز خاطر خواہ سرمایہ کاری کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، حکومت سندھ نے کورونا سے نمٹنے کیلئے کئی اقدامات کیے اور بہترین گورننس کو ثابت کیا،سندھ میں سیلاب کی تباہی نے 24 اضلاع کو شدید متاثر کیا ہے جنہیں ‘آفت زدہ’ قرار دیا گیا،سیلاب نے 2.1 ملین سے زائد مکانات کو نقصان پہنچایا ہے.