اسلم بھوتانی کیمپ میں شامل‘ عمران خان اکثریت کھو چکے ‘متحدہ اپوزیشن

اسلام آباد (ویب ڈیسک )متحدہ اپوزیشن کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ بلوچستان سے آزاد رکن اسمبلی اسلم بھوتانی کو اپوزیشن کیمپ میں شمولیت پر خوش آمدید کہتے ہیں،عمران خان اپنی اکثریت کھو چکے ہیں زبردستی ملک اور عوام پر مسلط ہونے کی بجائے مستعفی ہوکر گھر چلے جانا چاہیے،عمران خان کے جھوٹے الزامات اور خط کے حوالے سے ان کو چیلنج کرتے ہیں کہ عوام کے سامنے لائیں،ایم کیو ایم کے تمام مطالبات مان لیے ہیں ان کے ساتھ لانگ ٹرم اتحاد بننے جا رہا ہے
عدم اعتماد کے حوالے سے ہم بونس میں جا رہے ہیں ووٹنگ والے دن حیران کن نمبر سامنے آئیں گے،سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد سپیکر قومی اسمبلی کوئی غیر آئینی کام نہیں کریں گے اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہے بلوچستان کا مستقبل پاکستان سے جڑا ہوا ہے ،وزیراعلی پنجاب کے بارے میں متحدہ اپوزیشن فیصلہ کرے گی ہمارے پاس نمبر پورے ہیں اور پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ نہیں بن سکتے،جبکہ اسلم بھوتانی نے کہا کہ آصف علی زرداری کے مجھ پر بڑے احسانات ہیں اور ان سے چالیس سالہ تعلق ہے یہ جہاں کہیں گے میں وہاں جاؤں گا
ان خیالات کا اظہار اصف علی زرداری ،بلاول بھٹو زرداری ،سردار ایاز صادق ،سردار اختر مینگل اور مولانا عبدالغفور حیدری نے بلوچستان سے آزاد رکن اسمبلی محمد اسلم بھوتانی کی تحریک عدم اعتماد کی تحریک میں اپوزیشن کی حمایت کرنے کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر ،شیری رحمان ،سید نوید قمر اور مولانا عبد واسع کے علاؤہ دیگر اپوزیشن کے اراکین بھی موجود تھے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کل تاریخی دن تھا متحدہ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں پیش کی گزشتہ روز بلوچستان عوامی پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کے اپوزیشن کے اراکین اپوزیشن کا ساتھ دینے کا اعلان کیا آج اسلم بھوتانی نے اپوزیشن کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے ہم ان کو خوش آمدید کہتے ہیں
رکن اسمبلی اسلم بھوتانی نے کہا کہ میں گوادر سے منتخب ہوا ہوں ہم ساڑھے تین سال حکومت کے ساتھ چلے ہیں زرداری صاحب سے چالیس سال سے تعلق ہے اور ان کے مجھ پر بہت احسانات ہیں اختر مینگل صاحب سے میرا تعلق ہے میں زرداری صاحب کے ساتھ ہوں اور وہ جدھر ہیں میں وہاں چلا جاؤں گا ،میرے الیکشن میں ڈاکٹر مالک اور میر حاصل بزنجو نے بہت ساتھ دیا تھا مجھے زرداری صاحب کا حکم تھا ہم حاضر ہیں اختر میگل نے کہا کہ جب ہم حکومت کے اتحادی تھے اچھے تعلقات تھے ایوان میں بات چلتی رہتی تھی آج بھوتانی صاحب نے اپوزیشن کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے خوش آمدید کہتا ہوں
مولانا غفور حیدری نے کہا کہ اسلم بھوتانی بلوچستان میں سپیکر بھی رہے ہیں میں اپنی جماعت کی طرف سے اور اپوزیشن کی طرف سے شرکت پر ان کو خوش آمدید کہتا ہوں اب وزیراعظم کو استعفی دینا چاہیے کشتی میں سوراخ بڑھ رہے ہیں آج اسلم بھوتانی نے جو کیل ٹھوکا ہے وہ جاں بھر نہیں ہو سکے گا
سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ میں جوائنٹ اپوزیشن کی طرف سے مبارکباد دیتا ہوں لوگ اپوزیشن کو چھوڑ کر لوگ حکومت میں جاتے ہیں لیکن آج حکومت کو چھوڑ کر اپوزیشن کے ساتھ جارہے ہیں عمران خان کے رویے کی وجہ سے اراکین قومی اسمبلی چھوڑ رہے ہیں ہمارے پاس حیران کن نمبر ہوں گے آہستہ آہستہ تعداد بڑھ رہی ملک کو دشمن بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے جتنا نقصان عمران خان نے پہنچایا ہے فارن پالیسی بھی دیکھ لیں اس کی کیا صورتحال ہے وزیراعظم خود کا سوچتے ہیں ملک کا نہیں سوچتے ہیں
سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ سیاسی لوگوں کا رابطہ رہتا ہے ملک کو ملکر بچانا پڑے گا رات بارہ بجے مجھے پرویز الٰہی مبارک باد دینے آئے تھے صبح پتہ نہیں کیا ہوا کہ ادھر چلے گئے ایک سوال کے جواب میں اصف علی زرداری نے کہا کہ پرویز الٰہی کو اب دیر ہو چکی ہے اب اپوزیشن طے کرے گی کہ کون وزیر اعلیٰ پنجاب ہو گا ہمارے پاس نمبر پورے ہیں ان کے پاس نمبر پورے نہیں ،ڈائیلاگ کر رہے ہیں ہم نے پہلے بھی اقتدار سنبھالا تھا تب بھی ہم نے کام کر کے دیکھایا تھا ہم نے مسائل حل کیے تھے آئندہ کا بھی لائحہ عمل طے کر لیں گے اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہے پی ٹی آئی پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بنا نہیں سکتی،اپوزیشن کے ساتھ جو آ رہے ہیں سب کو احساس ہے کہ پاکستان کو بچانا ہے بھوتانی صاحب سے کہا کہ پارٹی میں آجائیں ہم صرف پاکستان کا سوچتے ہیں اقتدار آتے جاتے رہتے ہیں
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان جھوٹے الزامات لگاتے ہیں تین سال میں پاکستان کے عوام جان چکے ہیں اگر کوئی خط ہے تو عوام کے سامنے لائیں وہ جھوٹے الزامات لگاتے عدم اعتماد کے وقت ہمارے تعداد پوری ہے اتحادی جماعتوں کو ساتھ لیکر چل رہے ہیں کہ قانون سازی میں مدد ملے ہم نے ایم کیو ایم کے ساتھ ملک کی ترقی کیلئے اور کراچی کو سنبھالنے کے لیے لانگ ٹرم فیصلہ کیا ہے بلوچستان کا مستقبل روشن ہے تو پاکستان کا مستقبل روشن ہے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہر صوبے کو ان حق ملے گا بلوچستان کے ساتھیوں نے عدم اعتماد میں صفحے اول کا کردار ادا کیا سپریم کورٹ میں کیس چل رہا ہے اب سپیکر دھاندلی کرنے کی کوشش نہیں کرے گا عدلیہ عدم اعتماد میں دھاندلی نہیں ہونے دے گی
اسلم بھوتانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بلوچستان پیکیج دیا پانچ ہزار نوکریاں دیں ایک سو بیس ارب روپے این ایف سی ایوارڈ کے علاؤہ دیئے سترہ ارب کا سٹیٹ بنک کا اوور ڈرافٹ دیا سو ڈیم کا اعلان کیا اگر ہم۔نے صحیح خرچ نہیں کیا تو ہماری غلطی ہے بلاول بھٹو زرداری نے کہا نواز شریف کا وطن واپسی کا اپنا فیصلہ ہو گا دھاندلی سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا اس کے لیے انتخابی اصلاحات کی جائیں گی ،سیکر قومی اسمبلی کی زمہ داری ہے کہ علی وزیر کے پروڈکشن ارڈر جاری کریں ورنہ ہم عدالت کا رخ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے آگر عدلیہ نے کسی کو ضمانت دی ہے تو حکومت کیسے پکڑ سکتے ہیں ہم بونس میں جا رہے ہیں زیادہ سے زیادہ سات دن کھنچ سکتے ہیں عمران خان کا آخری ہفتہ ہے انہوں نے کہا کہ اگر گورنر سندھ اور وفاقی حکومت میں جرت ہے تو سندھ میں گورنر راج لگا کر دکھائیں